کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 276

اور یہ کہ اللہ کے پاس (نیکیوں کا) بڑا ثواب ہے۔‘‘ (سورۃ الانفال: 27,28)یہ اولادیں ، یہ بچیاں اللہ کی امانت ہیںاور اس امانت کی حفاظت کے لئے مکمل توجہ اور ہوشیاری کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان امور اور اسباب سے بچا جا سکے جو اس امانت میں خیانت کا باعث بن جاتے ہیں اس نعمتِ امانت کی عمارت کو انسان خود کھڑا کرتا ہے۔ لیکن اپنی ذمہ داری سے لاپرواہی اس طویل خوبصورت عمارت کے تعبیر خواب کو خاک میں ملا دیتی ہے ۔ ذرا سی لاپرواہی اس امانت میں زوال و بربادی کا باعث بن جاتی ہے ۔ کیونکہ آپ کے ساتھ ساتھ ایک دشمن بھی ہر موقع پر موجود رہتا ہے جسے صرف ایک موقع کی تلاش رہتی ہے اور وہ موقع آپ نے اسے خود دیا۔ ابلیس وہ شیطان ملعون پیدائش کے وقت بھی اس نو مولود کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’ہر بچہ کو شیطان اس کی پیدائش کے وقت ٹہو کا دیتا ہے اسی سے وہ چیخ کر رونے لگتا ہے۔‘‘  اسی آفت سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی راہنمائی کر دی ہے۔ ارشادی باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ: ’’مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آتش (جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تندخو اور سخت مزاج فرشتے ( مقرر) ہیں اور جو ارشاد اللہ ان کو فرماتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔‘‘ (التحریم:6) لیکن والدین اپنی لاپرواہی کی بناء پر اس ذمہ داری کی ادائیگی میں سستی کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن وہ دشمن پھر ایسی بچیوں کی تربیت خود کرتا ہے اور یوں معاشرے میں لڑکیوں کی بغاوت کی ابتداء ہوتی ہے۔ ابلیس کی یہ اللہ تعالیٰ سے جنگ ہے جس میں ناچاہتے ہوئے بھی ہمارا تعاون ابلیس ہی کو حاصل ہوجاتا ہے اس کا اصل مقصد کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ: (اس نے)’’ کہا کہ پروردگار جیسا تو نے مجھے رستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں

  • فونٹ سائز:

    ب ب