کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 277

کے لئے (گناہوں کو) آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا۔‘‘ (الحجر:39) ’’لاغوینھم‘‘ اغوا عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب راہ راست سے بھٹکانا گمراہ کرنا۔ شیطان نے اللہ تعالیٰ کو چیلنج دے کر کہا تھا کہ میں انہیں اغوا (گمراہ کرونگا)کروں گا۔ نسلِ انسانی کے آغاز سے ہی شیطان اس مشن میں سرگرم عمل ہے ہمارے والدین کی پیدائش کے بعد سے ہی اس کے حربے عام ہیں ۔سیدنا آدم و حواعلیہما السلام بھی اس حربہ کا شکار ہوئے تھے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ: تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تا کہ ان کے ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لئے منع کیا ہے کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو۔ (الاعراف:20) ابتداء سے ہی نافرمانی اور بے حیائی کو فروغ دینا اس کا مقصد ہے۔تا کہ انسانوں کی عقلیں سلب کرلے اور ان کو ذہنی طور پر اغواء کر لے اس طور پر کہ انہیں نہ اللہ کی نافرمانی کا خوف رہے نہ ہی حیا ان کا جز ہو۔ عورت کا فتنہ پھر اس اغواکاری میں اس کی آلہ کار ہیں جس کے بارے میں یہ حدیث ہماری راہنمائی کرتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ آخری زمانے میں کچھ لوگ ایسے ہونگے جن کے چہرے تو انسانوں جیسے ہونگے لیکن دل شیطان کے ہونگے ۔‘‘ اور ان ہی شیطان دل والوں نے جن کا سرپرست ابلیس ہے ابتداء سے ہی بیرونی محاذوں کے ساتھ ساتھ جسمانی ، روحانی اور ایمان کو مفلوج کرنے کی سازشیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کے لئے جہتوں اور طبقات میں اپنا ’’ ابلیسی جال ‘‘ بچھا رکھا ہے اور اس جال کا سب سے بڑا نیٹ ورک جس فتنہ کو ظہور دیتا ہے وہ ’’عورت کا فتنہ ‘‘ہے۔ جس کا اشارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے بھی ہمیں ملتا ہے۔ فرمایا:

  • فونٹ سائز:

    ب ب