کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 283

کئی سالوں پہلے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے باہر نکلے دیکھا راستے میں مرد و زن اکھٹے چل رہے ہیں یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا:’’ ایک طرف ہوجاؤ کیونکہ تمہارے لئے راستے کے وسط میں چلنا درست نہیں ہے تمہارے لئے راستہ کے ایک طرف چلنا لازم ہے۔‘‘ راوی کہتے ہیں اس کے بعد عورتیں دیوار سے چمٹ کر اس طرح چلتیں کہ ان کا کپڑا دیوار سے اٹک جاتا۔ اس حکم کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مزید قدم اٹھائے ۔ 1مسجد کے دروازے کو عورتوں کے لئے خاص کر دیا ۔امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے اسی مناسبت سے حدیث نقل کی ہے۔ ترجمہ: فرمایا ، اگر ہم اس دروازے کو عورتوں کے لئے مخصوص کر دیں (تو بہتر ہے)۔ 2نماز سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر بیٹھے رہتے تاکہ عورتیں ا س عرصے میں اپنے گھر روانہ ہوجائیں اور راستہ میں دونوں جنسوں کا اختلاط نہ ہونے پائے۔ جب مساجد اور ان کی طرف آنے والے جہاں خالص عبادت کے جذبوں سے آنے والوں کو یہ حکم دیا گیا تو دوسری جگہیں جہاں شرم و حیا کی قید نہیں وہاں مردو زن کا اختلاط یا خلوت کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔ اس خلوت سے نا صرف مسلمان گھرانوں میں فساد برپا ہوا بلکہ ان کی اپنی نسلوں میں بھی شرم و حیا کے جنازے نکلے ۔ (3)نظرسے بد کاری جو ہیں اہل بصیرت اکثر آنکھیں بند رکھتے ہیں نظر اچھے دلوں کو بھی کبھی بدنام کرتی ہے اس نظر کے اندر جنسی جذبات و شہوت اور زنا کا پیش خیمہ ہے اسی لئے شریعت نے اسے نیچے رکھنے کا حکم دیا ہے لیکن اس کے برخلاف باطل نظر سے نظر ملانا سکھاتا ہے اور Boldness کے نام پر ابھارتا ہے۔امام ابن قیم رحمہ اللہ نے کیا خوب لکھا ہے :

  • فونٹ سائز:

    ب ب