کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 288

بغاوت کا اعلاج تقویٰ کی آبیاری ایسا خوف کہ دل و دماغ میں راسخ ہو کہ ایک دن اپنی زندگی کے ہر لمحے کا بارگاہ الٰہی میں جوابدہ ہونا ہے اچھا برا جو عمل ہوگا ویسا بدلہ پانا ہے اس تقویٰ کا فائدہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد شامل حال ہو جائے گی۔اللہ ابلیس کے مقابلہ میں برھان عطا کر دے گا جو بصیرت کو کھول دے گا۔ ترجمہ:یقینا جو لوگ خدا ترس ہیں جب ان کو کوئی خطرہ شیطان کی طرف سے آجاتا ہے تو وہ یاد میں لگ جاتے ہیں ، سو یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ (الاعراف 201:) دین الٰہی کی معرفت کا حصول جس طرح کلمہ پڑھ کر انسان دین میں داخل ہوتا ہے، اس طرح کچھ اقوال و افعال ایسے ہیں جس کے کرنے سے غیر شعوری طور پر اسلام کی حدوں کو توڑ کر اپنے ایمان واسلام سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ لوگ فوج در فوج دین اللہ میں داخل ہوئے تھے اور عنقریب فوج در فوج نکل جائیں گے۔‘‘ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ دین الٰہی کی معرفت حاصل کی جائے ان امور کو بھی جانا جائے جن پر اسلام کا دارو مدار ہے اور ان کو بھی جن سے اسلام سے خروج ہو جائے ۔ کلمہ طیبہ کے تقاضوں کو جانا جائے قرآن و حدیث کی مدد سے فرقان کا حصول کیا جائے تاکہ حق و باطل کی اس کشمکش میں سینے میں موجود چھوٹی سی اسکرین قرآن و سنت کی مدد سے ان کا مقابلہ کرے جس کی جدت کا کوئی مقابلہ نہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناہ دور کر دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔ (الانفال 29)

  • فونٹ سائز:

    ب ب