کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 289

آج بھی ہو ابراہیم سا ایمان پیدا آنکھ کر سکتی ہے انداز گلستان پیدا فتنوں کے بارے میں آگاہی جب تک معلوم ہی نہیں کیا جائے گا کہ خیر کیا ہے، شر کیا ہے تو اس سے بچا کس طرح جا سکتا ہے ! سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں :’’لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں سوال کیا کرتے اور میں شرکے بارے میں سوال پوچھتا اس خوف سے کہ کہیں یہ شر مجھے نہ آ پکڑے۔ ‘‘ حرف آخر ’’ العمل بلاعلم ضلال، والعلم بلا عمل وبال‘‘ عمل بلا علم کے گمراہی ہے لیکن علم عمل کے بغیر انسان پر وبال ہے۔ عورت کے اندر ناشکری ، ذکر کی کمی ، اللہ کا ڈر نہ ہونا ، معصیت ، انا اور دنیا کی حوس ہوتی ہے اللہ سے دعا ہے ۔ ’’رب اجعلنی لک شکارا لک ، ذکارا لک رھابا لک مطواعا الیک مخبتا اواھا منیبا‘‘ ترجمہ: اے میرے رب مجھے ایسا بنا دے کہ میں تیری نہایت شکر گزار تیرا بہت ذکر کرنے والی ، تجھ سے بہت ڈرنے والی، تیری انتہائی فرمانبردار ، تیرے آگے جھکنے والی ، گڑگڑانے والی ، تیری ہی طرف متوجہ ہونے والی بن جاؤں۔ اسلام اپنی ہر بیٹی، بہن ،ماں سے یہی کردار ، یہی صفات چاہتا ہے ۔ان صفات کے اپنانے سے باطل کی تمام کوششیں خاک میں مل سکتی ہیں اسی لئے اس نے ہمیں ان تمام صفات سے دور کر دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو صحیح معنوں میں اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ ہم اپنے مرتبہ کو پہچانیں اور اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی ایمان و حیاسے آبیاری کریں ۔ اسوہ ابراہیم علیہ السلام پر عمل کرتے

  • فونٹ سائز:

    ب ب