کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 292

عورت حیران ہو کر دیکھ رہی تھی اور شرمندہ ہو کر چھوئی موئی بنتی چلی جا رہی تھی کہ بد معاش د یدے پھاڑپھارُ کر مجھے کیوں دیکھ رہا ہے۔ لڑ کا تھا کہ اس کے کبھی کبھار غیرت اورحیرت سے اس دیکھنے کو بھی کچھ اور مطلب و معانی پہنا رہا تھا۔ وہ اس کے دیکھنے پر ہلکا سامسکرا دیتا اور کبھی کبھار محبت بھرے نغمے اور اشعار اپنی ہی ترنگ میں آہستہ آہستہ گنگنانے لگتا۔ باقی سوار یاں یہ سب تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھیں مگر مسلسل خاموش تھیں۔ کچھ لوگ آپس میں دبے دبے لفظوں میں ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ یہ لڑکا تو اس خاتون کے پیچھے ہاتھ دھو کر ہی پڑ گیا ہے۔ جب ایک سیٹ خالی ہوئی تو لڑ کا فورا ًکو اندر لپکا اور سیٹ پربیٹھ کر اپنے سامنے گھور نے لگا۔ کنڈیکٹر نے یہ منظر دیکھ کر اس سے پوچھا: جو ان کہاں جاؤگے‘ کون سے سٹاپ پر اتاروں تجھے؟ نو جوان نے بغیر عورت کے چہرے سے نظریں ہٹائےکہا جب میر اسٹاپ آ جائے گا تو تجھے بتا دوں گا۔ اب وہ اللہ کی بندی خاتون شر مند گی پریشانی اور پشیمانی کی بنا پر پسینے میں بھیگی چلی جا رہی تھی۔یہ مکر وہ کھیل و تماشا چلتا رہا حتیٰ کہ گو جر ہ موڑکا سٹاپ آیا اور وہ عورت تیزی سے اٹھی تا کہ اپنے سٹاپ پر اتر جائے۔ یہ صورتحال دیکھ کر یہ نوجوان بھی اس کے پیچھے نیچے اتر گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟اس لئےکہ خالق کائنات نے عورت کوعورت بننے کا حکم دیا ہے، عورت کا معنی ہی ایسی چیز ہے جو تمام اطراف سے مکمل طور پرڈھانپی گئی ہو اور چھپائی گئی ہو۔ جب چھپائی جا نے والی چیز کو ظاہر کر دیا جائے اور وہ ظاہرکرنے والی بذات خود عورت ہی ہوتو پھر نتیجے تو ایسے ہی نکلیں گے۔اسلام نے عورت کو پردہ کا حکم دیا ہے ۔ اسے حکم دیا ہے کہ وہ اپنی زینت کو چھپا کررکھے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ چہرہ عورت کے زینت والے مقامات میں سے سب سے زیادہ اہم ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب