کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 293

اس لئےہربہن کو چاہئے تو یہ کہ وہ چہرے کو سب سے پہلے چھپائے۔وقت کے گزر نے اور جدید ترقی یافتہ دور کی آمد نے شرعی پر دے کے بھی جدید اور نت نئےاسلوب اور ڈھنگ متعارف کروائے ہیں۔ ایک گمراہ عورت کا پلکنگ کرکے، بھنویں بنا کر،کاجل و سرمہ لگا کر ، پھر ابروپر مختلف شیڈز لگا کر، آنکھوں میں ڈیلوں پر سرخ ڈور ے بنا کر‘ تھریڈنگ کے لوازمات اپنا کر، یہ سارے آنکھوں کی تزئین و آرائش اور حسن و جمال کو چار چاند لگا نے والے جتن کر کے گھرسے باہر نکلنا ۔۔۔۔۔اور پھر چاروں طرف آنکھیں گھما گھما کر ۔۔۔۔۔۔ مٹکامٹکا کر د یکھنا ۔۔۔۔ مستی اورخر مستی میں ہنس ہنس کر غیر محرموں دکاندارو ں وغیرہ سےباتیں کرنا۔۔۔۔۔ اور پھر فتنوں کےآتش فشاں پھٹا کر واپس آ نا اور یہ دعویٰ کرنا کہ’’۔۔۔۔۔ میں تو مکمل پردہ میں ہوں‘‘ کیا ایسی عورت کو مندرجہ بالالوازمات یا اس سے کچھ کم کو اپنا نے والی عورت کو ہم’’ پردہ دار‘‘کہہ سکتے ہیں ؟ یہ نادان فتنے کی جڑ ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ بننے سنورنے کے اتنے مرحلے طے کرنے کے بعد ہی کیوںبازار جاتی ہیں ـ؟ عورت تو ایسے تباہ کن لوازم کے بغیر بھی مکمل فتنہ ہے۔ ایسی عورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زانیہ کہا ہے۔ آپ نے تین دفعہ فرمایا :جو عورت( و و سروں تک پہنچنے والی ) خوشبو لگا کر بازار سے یا چوک سے گزرتی ہے وہ زانیہ ہے،زانیہ ہے، زانیہ ہے۔ لفظ ’’عورت‘‘کے معنی پر کبھی غور کیا ہے آپ نے ؟ اس کا معنی ہے ایسی خاتون جس کے جسم کا کوئی بھی حصہ کوئی غیر محرم مرد نہ دیکھ سکے‘حتیٰ کہ اس کےناخن بھی، وہاں کا بھی پردہ کرے چہ جائیکہ وہ پورا چہرہ ہی ننگا لئے پھرے یا کچھ جاذب نظر اور پر کشش حصہ بنا سنوار کر اس کی نمائش کرتی پھرے اور فتنے کے دروازے کھولتی پھرے۔ نگاہوں کےفتنے سے کون واقف نہیں ؟نگاہوں کے تصادم سے ہی تو بہنوں کی بد نامی ہوتی ہے۔ نا کامی ہو تی ہے۔ بے باک اور عریاں نگاہوں سے شیطان تیر کا کام لیتا ہے۔ برق شرربار کا کام لیتاہے، خنجرپیکار کا کام لیتا ہے۔ نظر کا تیر جب کمان سے نکلتا ہے تو جگر کے پار ہو جاتا ہے، آدمی کو شیطان ورغلاتا ہے اور وہ اللہ کی نافرمانی کر کے کفر کے ارتکاب تک پہنچ جاتا ہے۔اصل اورشرعی پر دے کے تقاضوں کو پورا کر نے والے یا ان کے قریب ترین لبا س پہننےسے آج کل نفرت کی جانے لگی ہے۔ جدید دور کے تقاضے بھی جدید ہی سمجھے جانے لگےہیں۔ ٹوپی برقعہ یا دیگر تسلی بخش حجاب کے لوازمات کو اپنا نے وا لوں کو بنیاد پرست، رجعت پسند،جاہل اور پسماندہ ذہنوں اورعملوں کے مالک سمجھا جاتا ہے اور انہیں حقیر جا نا جا تا ہے۔سر پر علامتی دوپٹہ رکھ کر چہرہ اس لئےننگا رکھا جا تا ہے کہ بقول بعض الناس اس میں خاتون محترم با وقار،مہذب، سلیقہ شعار‌یافتہ اور’’ اچھی‘‘ نظر آتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ توانا،صحت مند ا ور جو ان نظر آتی ہے۔ میں نے ایک دفعہ اپنی ایک عزیزہ کو کہا کہ آپ ٹوپی برقعہ اوڑھ کر گھر سے باہر جا یا کریں۔ یہ آپ کیلئےزیادہ بہتر اور ساتر ہو گا۔ وہ تڑاخ سے بولی: میں کوئی بوڑھی ہو گئی ہوں جو قبر نما ٹوپی برقعہ پہن کر کار ٹون بن جاؤں۔ میں نے فوراً

  • فونٹ سائز:

    ب ب