کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 299

مالکہ تھی لیکن جب سے سکول کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے اکیڈمی گئی ہے اور چند ہندوستانی فلمیں دیکھی ہیں‘ اس کے اندر نہ جا نے کیوں غیر محسوس سی عجیب و غریب تبدیلیاں رونما ہوتی چلی گئیں۔ اس کے لکھے گئے خطوط ومکالمات میں سے یہ ایک نارمل اور مہذب خط ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کورے کاغذ کی طرح صاف شفاف دل و دماغ رکھنے والی لڑکی اس طرح بے باک و بے حیاء ہو جاتی ہے کہ اسے اخلاقیات‘ شرم و حیا ء اور اسلامی اقدار کی پامالی ذرہ بھر نظر نہیں آتی۔ جہاں خوف خدا‘ صحیح اسلامی تربیت اور اچھےہم نشینوں کی عدم دستیابی کے فقدان کا عنصر بدرجہ اتم موجود ہے‘ وہاں بڑے محرکات میں سے مخلوط تعلیمی اداروں کا ماحول‘ پرنٹ میڈیا‘ رسائل و جرائد اور اخبارات کی غلط رہنمائی بھی ہے۔۔۔۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر الیکٹرانک میڈیا پوری قوم میں تباہی کا زہر پھیلا رہا ہے۔ خاندان اور والدین نے جس بچی کی تربیت 16سال کی لگا تار کوشش اور محنت سے کی ہو تی ہے، ٹی وی کا ڈرامہ اورفلم اس کے اثرات صرف ایک گھنٹہ میں ختم کر دیتے ہیں۔ اس کا عملی مشاہدہ مجھے فیصل آباد میں ہوا‘ جہاں ایک عالم دین کی بیوہ اپنے بیٹے سے ایک عرصہ تک صرف اس لئےناراض رہی کہ وہ گھر میں ٹیلی ویژن کیوں لایا؟ اس نے گھر میں سب سے گفتگو بند کر دی اور کھا نا کھا نا بھی چھوڑ دیا۔ ایک دن ایک اصلاحی موضوع پر بنا یا گیا ڈرامہ نشر ہونے والا تھا کہ اس کے بیٹے نے زبردستی اسے ٹی وی کے سامنے لا کر بٹھا دیا اور کہا کہ اماں جان ! ایک دفعہ جو ہم دکھانے لگے ہیں یہ دیکھ لو‘ پھر جو آپ فیصلہ کریں گی ہم ویسا ہی کریں گے۔ بوڑھی اماں نے وہ خاندانی کہانی پر مشتمل ڈرامہ دیکھا تو انہیں اچھا لگا، اور پھر کیا ہوا۔۔۔۔ ؟تجسس پیدا ہوا۔۔۔۔ اب کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد حال یہ ہے کہ بچے ٹی وی کے سامنے بیٹھیں یا نہ بیٹھیں اماں جی سب سے پہلے وہاں موجود ہوتی ہیں ۔۔۔۔استغفراللہ۔ بالکل اسی طرح آج کل لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کو ہندوصلیبی تہذیب و ثقافت کے تیز اب میں گھلایا جا رہا ہے۔ ہمارے ذرائع ابلاغ ایسی غیر شرعی اور غیر اخلاقی عشقیہ داستانوں اور کہانیوں وغیرہ کی حوصلہ شکنی کر نے اور ان کی عبرت ناکی اور انجام بد ظاہر کر نے کی بجائے‘ ایسے لوگوں کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں‘ لوگ جن سے متاثر ہو کر اپنی زندگی کی راہ عمل متعین کر تے ہیں۔ جب سے ٹی وی کی نشریات شروع ہوئی ہیں آج تک کوئی بتاسکتا ہے کہ کوئی ایسا ڈرامہ پیش کیا گیا ہو کہ جس میں لو سٹوری نہیں تھی‘ یہاں تک کہ تاریخ پر بنائے گئے ڈراموں میں مجاہدین کے ساتھ بھی یہ چیز منسوب کی گئی۔۔۔۔ یقیناً انہی فلموں ڈراموں سے تربیت پانے والی دوشیزائیں خط لکھتے وقت یہ بات ذہن میں نہیں لاتیں کہ یہ خطوط کل ان کے گلے کا پھندا بھی بن سکتے ہیں۔ وہ ان تصاویر و خطوط کے ذریعہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب