کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 30

ساتھی تھے ۔ اس امت میں سب سے افضل ، سب سے نیک دل ، سب سے گہرے علم کے مالک ، اور سب سے زیادہ بے تکلف ۔ اللہ نے انہیں اپنے نبی کی رفاقت اور اپنے دین کی اقامت کے لیے منتخب کیا ، لہذا ان کا فضل پہچانو اور ان کے نقشِ قدم کی پیروی کرو اور جس قدر ممکن ہو ان کے اخلاق اور سیرت سے تمسّک کرو ، کیونکہ وہ لوگ ہدایت کے صراطِ مستقیم پر تھے ۔‘‘  مسلم قوم کیلئے ان کی ثقافت وتہذیب الغرض ہرحوالے سے ان کا ماضی بہت اہم ہے ۔ ماہرین عمرانیات قوموں کے ماضی کو ان کی یاداشت سے تشبیہ دیتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں جو قوم اپنا ماضی بھول جائے وہ اپنی یاداشت کھو بیٹھتی ہے ۔ پھر ایسی قوم پر ایک وقت آتاہے ، جب وہ خود قصہ ماضی بن جاتی ہے ۔ اس لئے ماضی سے رہنمائی لینا بہت ضروی ہے ۔ پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیاجو تاریخ کا سب سے زیادہ باکمال اور شرف سے بھرپور معاشرہ تھا ۔اور اُس معاشرے کے مسائل کا ایسا خوشگوار حل نکالا کہ انسانیت نے ایک طویل عرصے تک زمانے کی چکی میں پِس کر اور اتھاہ تاریکیوں میںہاتھ پاؤں مارکر تھک جانے کے بعد پہلی بار چین کا سانس لیا ۔ اس نئے معاشرے کے عناصر ایسی بلند وبالا تعلیمات کے ذریعے مکمل ہوئے جس نے پوری پامردی کے ساتھ زمانے کے ہر جھٹکے کا مقابلہ کرکے اس کا رُخ پھیر دیا اور تاریخ کا دھارا بدل دیا ۔ وآخر دعوانا أن الحمدلله رب العالمين

  • فونٹ سائز:

    ب ب