کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 301

ملاقاتوں کے تذکروں سے بھرے اور اکٹھے جینے مر نے کےپر وگر اموں پرمشتمل خطوط تھے۔۔۔۔ والدہ نے اپنا دوپٹا اتار کر پاؤں میں رکھتے ہوئے آنسوؤں بھری التجا آمیز نگاہوں سے تکتے ہوئے کہا:بھائی جان ! ہم آپ سے معافی مانگتے ہیں‘ اسے معاف کر دیں‘ اس سے بھول ہو گئی‘ اپنے گھر جائے گی تو آپ کو کسی بھی قسم کی شکایت کا موقعہ نہ ملے گا۔۔۔۔ لڑ کے کا والد غصے اور نفرت سے اٹھا اور یہ کہتے ہوئے دروازے سے باہر نکل گیاکہ اسے اپنے پاس رکھیں یا اس کے عاشق کے حوالے کر دیں‘ ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ ہم چچوڑی ہوئی ہڈی کو اپنے دستر خوان تک پہنچنے نہیں دیتے‘ اگر انجانے میں پہنچ جائے تو اسے باہر پھینک دیتے ہیں۔ لڑکی کا ماموں سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے ۔۔۔۔ماں چکرا کر گر تی ہے۔۔۔۔ اس کا سر پھٹ جا تا سے اور خون بہنے لگتا ہے ۔۔۔۔والد کو باہر سے اصل معاملہ کی اطلاع ملتی ہے ۔۔۔۔۔وہ بھاگم بھاگ لڑکے کے والد کو روکتا ہے اور اپنی پگڑی اس کے پاؤں میں رکھ کر التجا کرتا ہے کہ ہماری عزت و آبرو کا پاس رکھیں۔۔۔۔ لیکن کامیاب نہیں ہو تا ۔۔۔۔ڈھولک پیٹنےوالی سہیلیاں بھی اٹھ کر ایک ایک کر کے نکل جاتی ہیں ۔۔۔اور یوں سارے محلے میں خبر پھیل جاتی ہے۔۔۔۔اب سارا گھر قبرستان کی تصویر بنا ہے ۔۔۔۔ہر کوئی رو رہا ہے۔۔۔۔ کوئی گھر سے باہر ' نہیں نکل رہا کہ کسی کو کیا جواب دیں گے؟ ۔۔۔۔تھوڑی دیربعدوالد کو دل کا دورہ پڑنے کی خبر آ تی ہے ۔۔۔ آج بھی وہ لڑکی ٹی بی کے مریض کی طرح ہڈیوں کا ڈھانچہ بنی کسی جیون ساتھی کا انتظار کر رہی ہے لیکن کوئی اس کا ہاتھ تھامنے والا نہیں۔ اب سنا ہے کہ اس کے گھر والوں نے مکان بیچ کر نقل مکانی کر کے کسی نا معلوم جگہ جاڈیرا لگا یا ہے اور ایسے ہی زندگی کی سانسیں پوری ہو رہی ہیں۔ یوں ایک تو لڑکی والوں کا خاندان برباد ہو جاتا ہے بلکہ اس کے اس عمل سے اس کی باقی بہنوں اور بھائیوں کے لیے بھی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ کوئی ان کا رشتہ لینے نہیں آتا کہ شاید یہ بھی ایسی ہی ہوں۔ کئی سمجھدار والدین اپنی بیٹی کو یہ باور کروانے کے بعد کہ یہ بیج تم نے بو یا ہے اب اس کی فصل بھی تم ہی کاٹو‘ بدنامی سے بچنے کے لیے اس کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال کر اس کی پسند کی جگہ اس کا رشتہ کر دیتے ہیں۔ یاد رکھیں!۔۔۔ شریعت سے بغاوت کر کے، قرآن کے حکم کی مخالفت کر کے۔۔۔ ایسی لڑکیاں کبھی سکھ کا سانس نہیں لے سکتیں۔اگر خو ش قسمتی سے ان کا گھر بس بھی جائے‘ آنگن میں خوشیاں بسیر ا کر بھی لیں تو ان کا پرانا محبوب ہمیشہ یہ سوچ کر اس کے پیچھے لگا رہتا ہے کہ وہ مجھ سے محبت کرتی تھی لیکن ظالم سماج نے اس کو مجبور کر کے اور جگہ شادی کر کے مجھ سے جدا کر دیا۔ وہ لڑکی کے والدین اور سسرالیوں

  • فونٹ سائز:

    ب ب