کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 302

کے خلاف ایسے جذبات کا شیطانی اظہار کر تے انتقاماً گنگناتے پھر تے ہیں: زندہ رہیں گے پیار کے دشمن چاہے جہاں بھی جاؤ اپنی بولی یہ نہ سمجھیں کیسے انہیں سمجھاؤ جو کرنا ہے جلدی کر و اے ظلم کے پہرے دار و! اپنے زہریلے تیروں کو میرے سینے میں مار و وہ کسی نہ کسی طرح اس سے ملنے اور اس کو اپنا نے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔۔۔۔ جو آخر تباہی کا باعث بن جاتا ہے اور اس کاہنستابستاگھرانہ جہنم زار بن جاتا ہے۔۔۔ اس صورت حال کے بعد وہ مر نے کی خواہش اور تمنا کرتی ہے تو اس کو موت نہیں آتی ۔۔۔۔جینے کی کوشش کر تی ہے تو دنیا اسے جینے نہیں دیتی۔۔۔۔ اپنے غموں، دکھوں اور تکلیفوں کو بانٹنے کے لیے کسی کے پاس جا تی ہے تو وہ اس سے دور بھاگتا ہے۔۔۔۔ نفرت کرتا ہے۔۔۔ تھوکتا ہے۔۔۔۔ ملتا ہے تو بھی حقارت سے پیش آتا ہے۔۔۔۔ لوگ اپنی خواتین، بچوں اور خاص طور پر اپنی بچیوں کو اس کے سائے سے بھی دور رکھتے ہیں۔۔۔ اگر اس کی اولاد ہو تو وہ بڑی ہو کر نہ صرف اس کی باغی ہو تی ہے بلکہ اس سے نفرت کرتی ہے اور بعض اوقات تو اس کو طعنوں‌کے تیرمارتی ہے جس سے تنگ آ کر یہ بوڑھی عورت زبان حال سے پکار اٹھتی ہے: ایسے جینے سے بہتر تھا مر جاتی میں ایسا جینا تو مجھ کو گوارا نہیں اور پھر اسی کشمکش میں زندگی گزر جا تی ہے۔۔۔۔ سکون کی متلاشی۔۔۔۔ دکھوں کی ماری۔۔۔ زمانے بھر کی ستائی۔۔۔ یہ جان۔۔۔۔ لحد میں سو جا تی ہے۔ دنیا کہتی ہے کہ اب مر نے کے بعد اس کو سکون نصیب ہوا ہے ۔۔۔۔ورنہ دنیا والوں نے تو بڑھاپے تک اس کا جینا محال کیے رکھا۔۔۔۔ لیکن۔۔۔ کسے معلوم کہ اب بھی وہ سکون میں ہے یا کہ اپنے کیے کی۔۔۔۔ اللہ کے فرا مین سے بغاوت کی ۔۔۔۔سزا بھگت رہی ہے۔۔۔ سکون کب ملے گا اسے !!؟۔۔۔۔کب ملے گا؟۔۔۔۔۔ شا ید۔۔۔ روز قیامت۔۔۔۔ یا شاید کبھی نہیں !!۔۔۔۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب