کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 304

اسی مسلّمہ ضابطہ کو سامنے رکھتے ہوئے ہر قوم ، ملک ، نسل اور آبادی نے اپنے معتقدات ، اپنی عادات واعراف ، اور مصالح وقوانین کے تحفظ کیلئے اس آزادی کو ایک دائرہ تک محدود رکھا ہوا ہے ۔ آزادئ کا تطوراتی مفہوم : انسان آ ج سے نہیں بلکہ ہزاروں سالوں سے اس دنیا میں بس رہا ہے، ہر دور میں اس نے اپنی آزادی کیلئے کچھ قاعدے وضع کئے مگر اس کی فلاح اور کامیابی محض اسلام کے دئے گئے ضابطہ آزادی سےہی ممکن ہوپائی ہے ۔ کرہ ارض پر قدیم ترین تہذیبوں میں مصری تہذیب نمایاں ہے ۔ قدیم مصری تہذیب میں آزادی کا جو تصور پایاجاتاتھا وہ بعینہ اپنی اُسی پرانی شکل میں جدید دنیا میں بھی موجود ہے اگر چہ انداز ، کردار ، واطوار بدل گئے ہیں اغراض ومقاصد واہداف وہی پرانے ہیں۔ مصر کی عہد قدیم کی آزادی کچھ ایسی ہوا کرتی تھی کہ محض فرعون کو آزادی تھی! فرعون اکیلا ہی جو چاہتا ، جب چاہتا اور جس کیفیت سے چاہتا کرتا تھا ، ہاں رعایا کو کوئی آزادی نہیں تھی بلکہ وہ وقت کے بادشاہ کے اشارے کے تابع تھے جسے انہوں نے خدائی درجہ دے رکھا تھا ، اللہ تعالیٰ نے ان کی اسی آزادی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: { قَالَ فِرْعَوْنُ مَآ اُرِيْكُمْ اِلَّا مَآ اَرٰى وَمَآ اَہْدِيْكُمْ اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ} [غافر: 29] ’’ فرعون نے کہا ، میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود دیکھ رہا ہوں اور میں تو تمہیں بھلائی کی راہ ہی بتلا رہا ہوں ‘‘ ۔ یعنی وہ بزعم خود سمجھ رہا تھا کہ میری ہی رائے صحیح ہے باقی سب غلط ۔ حالانکہ ایسا نہیں تھا ۔ رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : {فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيْدٍ} [هود: 97] ’’ پھر بھی ان لوگوں نے فرعون کے احکام کی پیروی کی اور فرعون کا کوئی حکم درست تھا ہی نہیں ‘‘ ۔ فرعونی تہذیبوں میں فرمانروا ہی سیاہ وسفید کے مالک ہوا کرتے تھے ، اِبلاغ و ترسیل کے تمام ذرائع پر حکومت اور بالا نشیں طبقوں کا مکمل کنٹرول تھا۔ اخبارات اور صحافیوں کے پیروں میں حکومت اور مقتدر طبقے نے پابندیوں کی زنجیر ڈالی ہوئی تھی، وہ کوئی ایسا مواد مشتہر نہیں کرسکتے تھے، جس میں حکومت اور فرماں روائے وقت یا حکومتی اہل کاروں کی پالیسیوں پر جرح و تنقید کی گئی ہو۔ آج کے دور میں آزادیٔ اظہار رائے کے حوالے سے فرعونی تہذیب کا ترجمان کمیونسٹ نظریہٴ

  • فونٹ سائز:

    ب ب