کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 32

شادیوں میں بارات کا رواج کب سے شروع ہوا؟ یعنی پورے خاندان،برادری اور دوست احباب کا ایک جم غفیر اور انبوہ کثیر کو لے کر لڑکی والوں کے گھر جانا ۔ تاہم یہ بات توواضح ہے کہ عہد رسالت وعہد صحابہ وتابعین یعنی دور خیر القرون میں اس کا نام ونشان نہیں ملتا ، صرف گھر کے چند افراد جاتے اور خاموشی اور سادگی کے ساتھ گھر کے ایک کونے میں بیٹھ کر نکاح پڑھ کے لڑکی کو اپنے ہمراہ لے آتے ، شرعاً نکاح میں اعلان ضروری ہے اور یہ اعلان طرفین کے گھر والوں کے سامنے ہوجاتاتھا نیز ولیمے میں مزید لوگوں کے علم میں آجاتا ، اب جو بارات کا عام رواج ہے جس کے بغیر شادی کا تصور بھی ممکن نہیں اس کے بے شمار مفاسد ہیں ، ان میں سے چند بڑے مفاسد حسب ذیل ہیں۔ (1) سارے دوست احباب اور خاندان اور برادری کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ جمع کرنا،اسراف(فضول خرچی) ہے، پہلے خود لڑکے والوں کو تمام مہمانوں کے بیٹھنے اور خاطر تواضع کا انتظام کرنا پڑتا ہے ، قریبی رشتے داروں کے لیے تو یہ انتظام کئی کئی دن کے لیے کرنا پڑتا ہے۔ پھر ان سب کو ساتھ لانے اور لے جانے کے لیے بسوں اور گاڑیوں کا انتظام اس پر مستزاد۔ اس سے بھی پہلے شادی کارڈوں کی اشاعت کا مسئلہ آتاہے ، پہلے تو سادہ سے کارڈ چھپوا کر اطلاع کا اہتمام کر لیا جاتا تھا ، اب اس میں بھی پیسے والوں نے بڑی جدتیں اختیار کر لی ہیں اور اتنے اتنے گراں کارڈ چھپنے لگے ہیں کہ ان کو دیکھ کر اس قوم کی فضول خرچی پر سرپیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔ علاوہ ازیں زیادہ قریبی رشتے دار( بہنیں اور بیٹیاں اور ان کی اولاد) تو کئی کئی دن پہلے آکر شادی والے گھر میں ڈیرے ڈال لیتی ہیں اور مختلف رسموں(مایوں،مہندی وغیرہ) کے علاوہ کئی کئی راتیں مسلسل ڈھولکیاں بجاتیں اور اہل محلہ کی نیندیں خراب کرتی ہیں۔ پھر نکاح والے دن بقیہ خاندان اور احباب وغیرہ جمع ہوکر ایک لاؤ لشکر کی صورت میں لڑکی والوں

  • فونٹ سائز:

    ب ب