کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 33

کے گھر جاتے ہیں جس کی ضیافت اور ٹھہراؤ کے لیے کسی شادی ہال یا کسی بڑی مکان کا انتظام لڑکی والوں کو کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح ان کو ایک بہت بڑا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے ، جن کے پاس وسائل کی فراوانی ہوتی ہے ان کےلئے تو یہ بوجھ کوئی اہمیت نہیں رکھتا لیکن جن کے پاس زیادہ وسائل نہیں ہوتے ان کو بھی خواہی نخواہی یہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے چاہے وہ زیر بار ہوجائیں اور اس بوجھ کے اتارنے میں وہ سالہا سال پریشان رہیں۔ (2) جب لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے اور اللہ سے بے خوفی کے نتیجے میں یہ تصور بھی عام ہے کہ یہ خوشی کا موقع ہے اس وقت جو چاہیں کر لیں ، اس کا جواز ہے ، چنانچہ بڑی بڑی شیطانی حرکتیں کی جاتی ہیں اور باراتی ان سے خوب محظوظ ہوتے ہیں ، اس طرح سب گناہ میں شریک ہوجاتے ہیں ، بلکہ اکثر اوقات لڑکی والوں کی طرف سے بھی ان کا مطالبہ اور اصرار ہوتا ہے ، یوں دونوں خاندان اور ان کے سارے عزیز واقارب اجتماعی طور پر نہایت دھڑلے سے اللہ کی نافرمانیاں کرتے اور شریعت اسلامیہ کی دھجیاں اڑاتے ہیں جب کہ اسلامی تعلیم کی رو سے انفرادی گناہ جو خفیہ اور چھپ کر کیا جائے اگرچہ وہ بھی گناہ ہے لیکن اگر کوئی گناہ کا کام کھلم کھلا لوگوں کے سامنے کیا جائے ، تو اس جرم کی شناعت وقباحت کئی گنابڑھ جاتی ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ۔ "كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا المُجَاهِرِين" ’’ میری امت کے سارے گناہ معاف ہوسکتے ہیں سوائے ان گناہ گاروں کے جو کھلم کھلا گناہ کا ارتکاب کرنے والے ہوں گے۔‘‘ اجتماعی طور پر کیے جانے والے یہ گناہ جو باراتیوں کے ہجوم میں اور ان کی وجہ سے کیے جاتے ہیں، حسب ذیل ہیں : بینڈ باجوں کا اہتمام جن کی شیطانی دھنوں سے لوگ محظوظ ہوتے ہیں حتی کہ ان پر نوٹوں کی بارش کی جاتی ہے جس کا نام ویل دینارکھا ہوا ہے۔ آتش بازی جو’’گھر پھونک،تماشہ دیکھ‘‘ کی مصداق ہے ، ہزاروں روپے اس پر اڑادیے جاتے ہیں۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب