کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 35

آخر میں مراثیوں کا ایک غول آجاتا ہے جو الٹی سیدھی ہنسانے والی باتیں ہانک کر اور بڑکیں مار کر باراتیوں سے (ویلیں) وصول کرتے ہیں۔ اور بعض جگہ اور بعض خاندانوں میں مجرے کا رواج ہے۔ مخنث(ہیجڑے) نسوانی لباس اور نسوانی ناز وادا اور ناچ گاکر باراتیوں کا دل لبھاتے ہیں اور ان سے خوب ویلیں وصول کرتے ہیں اور باراتی ان پر بھی نوٹوں کی بارش برساتے ہیں۔ کھانے کے موقعے پر بھی اکثر وبیشتر عجیب ہڑبونگ مچتی ہے ، کھانے پر لوگ اس طرح ٹوٹ کر پڑتے ہیں ، جیسے مویشیوں کو چارہ کھر لی میں ڈال کر چھوڑ دیا جاتاہے اور وہ’’ یاکلون کما تاکل الانعام‘‘کے مصداق ہوتے ہیں یا جیسے بھوکے گد ہوتے ہیں یا جیسے ایسی وحشی اور گنوار قسم کی قوم کے افراد ہوں جن کو کبھی کھانا نصیب نہیں ہوا یا جن کا کوئی تعلق تہذیب وشائستگی سے نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ہر شخض اپنی اپنی پلیٹوں کو اس طرح بھر لیتا ہے کہ اکثر وہ اس سے کھایا ہی نہیں جاتا اور آدھی آدھی پلیٹیں بھری ہوئی چھوڑ دیتے ہیں ، وہ سارا کھانا کوڑے میں پھینک دیا جاتاہے حالانکہ اس صورت حال کے پیش نظر میزبان ضرورت سے زیادہ وافر مقدار میں کھانا تیار کرواتا ہے اور یہ اندیشہ قطعاً نہیں ہوتا کہ کسی کو کھانا نہیں ملے گا ، بعض دفعہ کسی میز پر بیرے کو دوبارہ کھانا لانے میں ذرا دیر ہوجاتی ہے تو لوگ معمولی سا انتظار کرنے کے بجائے ہوٹنگ شروع کردیتے ہیں، بد اخلاقی اور تہذیب وشائستگی سے عاری یہ مظاہراتنے عام ہیں کہ ہم ان تقریبات میں غیر مسلم اشخاص کو بلانے کی جسارت نہیں کر سکتے کہ وہ یہ سب کچھ دیکھ کر ہم مسلمانوں کے اخلاق وکردار کے بارے میں کیا تاثر قائم کریں گے کہ یہ اسی مسلم قوم کے وارث ہیں جن کے اسلاف نے دنیا کو مکارم اخلاق اور تہذیب وشائستگی کا درس دیا تھا اور جن کے پیغمبر بھی خلق عظیم کے مالک تھے اور اعلیٰ اخلاق کی تعلیم ہی کے لیے مبعوث ہوئے تھے جس کے بہترین نمونے ان کے پیروکاروں(صحابۂ کرام وتابعین عظام) نے دنیا کے سامنے پیش کیے اور دنیائے انسانیت میں معلم اخلاق کے نام سے معروف ہوئے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب