کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 36

یہ سارے مظاہر جن کے کچھ نمونوں کی تفصیل آپ کے سامنے پیش کی گئی ، ایک تو سراسر اسراف وتبذیر میں داخل ہے جن کے مرتکبین کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اخوان الشیاطین(شیطانوں کے بھائی)قرار دیا ہے ۔ دوسرے قدم قدم پر اللہ کی نافرمانی کا ارتکاب ہے ۔ تیسرے ڈنکے کی چوٹ پر علانیہ بڑے بڑے گناہوں کی جسارت ہے جس کی کسی مسلمان سے توقع نہیں کی جاسکتی۔ چوتھے ، بداخلاقی اور بدتہذیبی کے مظاہر ہیں جن کی توقع کسی بھی مہذب اور شائستہ قوم سے نہیں کی جاسکتی ،چہ جائیکہ اسلام کے ماننے والے ان کا ارتکاب کریں؟ تمام مذکورہ خرافات کے بعد آخر میں فوٹو سیشن ہوتا ہے جس میں مرد وعورت سب اسٹیج پر یا اور کسی نمایاں جگہ پر جمع ہوتے اور باری باری دولہا اور دلہن کے ساتھ فوٹو کھنچواتے ہیں یہ سراسر بے پردہ اور مخلوط اجتماع ہوتاہے۔ ان تمام مفاسد اور خرابیوں سے بچنے کا ایک ہی طریقہ اور ایک ہی حل ہے کہ باراتوں کا سلسلہ ختم کیا جائے ، دولہا کے ساتھ خاندان کے چند لوگ لڑکی والوں کے گھر جائیں ، لڑکی والے بھی اپنا پورا خاندان جمع کرنے کی بجائے چندضروری افراد ہی کو اس تقریب میں شریک کریں اور گھر کے ایک کمرے ہی میں نکاح کرکے حسب استطاعت مہمانوں کی ضیافت کرکے اپنی بچی کے ہمراہ ان کو رخصت کر دیں اس طرح اس تقریب کے لیے نہ شادی ہال کی بکنگ کی ضرورت ہوگی ، نہ مہمانوں کے لیے درجنوں کے حساب سے دیگوں، مختلف ڈشوں اور دیگر اشیائے طعام کی نہ عورتوں کی بے پردگی وبے حیائی کا فتنہ اور نہ بینڈباجوں،آتش بازی اور نہ مووی فلموں کی حیا سوز فتنہ انگیزی اور نہ دیگر بے شمار خرابیوں کا ظہور جس کی تفصیل گزشتہ سطور میں پیش کی گئی ہے۔ [فَھَل مِن مُّدَّکِرٍ ][سورةالقمر :17] کیا کوئی ہے ان نصیحتوں پر کان دھرنے والا؟ سادگی اور اسلامی تعلیمات کو اختیار کرنے والا ؟ اور لوگوں کی ناراضی اور لومۃ لائم(ملامت گروں کی ملامت سے) سے بے خوف ہوکر صرف اللہ کو راضی کرنے والا؟

  • فونٹ سائز:

    ب ب