کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 38

ہوگیا ہے ، پردہ کریں گی تو آرائش وزیبائش کے یہ مناظر لوگوں کو کب نظر آئیں گے ؟ اور نماز کے لیے وضو کریں گی تو میک اپ کا یہ کرشمہ ’مصنوعی حسن‘ بہہ جائے گا اور چہرے کی اصل رنگت اور اصل خدوخال نمایاں ہوجائیں گے۔ یہ عورتیں جب شادی والے گھر یا شادی ہال میں اکٹھی ہوتی ہیں تو ان کی نظریں دیگر تمام عورتوں کے لباس،زیورات اور میک اپ کا جائزہ لیتی ہیں اگر وہ ان سب میں ممتاز ہوتی ہیں تو اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے ، شیطان ان کے اندر تفاخر اور تکبر کا احساس اور اپنے سے کمتر عورتوں کی تحقیر کا جذبہ پیدا کر دیتا ہے بلکہ بعض دفعہ تو سادہ مزاج قسم کی عورتوں کی بابت اس قسم کے تبصرے بھی ان کے نوک زباں پر آجاتے ہیں کہ فلاں کو دیکھو! اللہ نے ان کو سب کچھ دیا ہے لیکن یتیموں اور فقیروں کے سے لباس میں یہاں آئی ہیں ، یعنی یہ سادگی ، جو اللہ کو پسندہے ، شیطان صفت ان عورتوں کو بری لگتی ہے۔ یہ عورتیں ایک جگہ جمع ہوتی ہیں تو اکثر وبیشتر ان کی باہم گفتگو کا موضوع ایک دوسرے کی غیبت اور ایک دوسرے پر لعن طعن ہوتا ہے ، اللہ کا ذکر شاذ ونادر ہی ان کی زبانوں پر آتا ہے ۔ مووی فلم میں ، جو آج کل شادیوں کا(بارات میں بھی اور ولیمے میں بھی) ایک لازمی حصہ بن گیا ہے ، ان بے پردہ فیش پرست عورتوں کے ایک ایک سین کو محفوظ کرکے ان کے حسن وجمال اور بناؤ سنگھار اور لباسوں کی تراش خراش بلکہ عریانی ونیم عریانی کو عام کرکے دونوں خاندانوں میں ان کی نمائش کا اہتمام اور ان کا چرچا ہوتا ہے حالانکہ عورتوں کی یہ ساری خوبیاں اور آرائش وزیبائش کی ساری صورتیں صرف خاوند کے لیے جائز اور اسی کے لیے مخصوص ہیں۔ لیکن بے چارہ مرد تو اپنی بیوی کو اپنے گھر میں بالعموم اس کے برعکس حالت میں دیکھتا ہے کیونکہ عورتیں اپنے خاوند کے لیے اس طرح کی آرائش وزیبائش کا اہتمام نہیں کرتیں جب کہ ان کو ان کے سامنے بناؤ سنگھار کرنے کی نہ صرف اجاز ہے بلکہ حکم ہے لیکن جب ان کو باہر جانے کی ضرورت پیش آتی ہے تو اس طرح بن سنور کر نکلتی ہیں کہ اللہ کی پناہ، بالخصوص شادیوں میں تو اس کی بے پردگی،اس کا نیم عریاں لباس، میک اپ ، غازہ ولپ سٹک، اس کی ایک ایک حرکت وادا ایک غارت گردین وایمان اور رہزن تمکین وہوش، کسی الھڑ حسینہ، دل ربا چنچل بازاری عورت سے کم نہیں ہوتی حالانکہ حکم یہ ہے کہ عورت جب گھر سے باہر نکلے تو باپردہ اور سادگی سے نکلے حتی کہ اس کی خوشبو کی مہک بھی کسی مرد کو محسوس نہ ہو ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب