کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 40

دولہا کے قریبی دوست بھی وہاں موجود ہوتے ہیں ۔ستم ظریقی کی حد یہ ہے کہ دیندار خاندانوں میں بھی اس رسم کو معیوب نہیں سمجھا جاتا اور اسے بلا تکلف ادا کیا جاتاہے حالانکہ دولہا بھی سوائے پھوپھی،خالہ یا اپنی ماں ، بہنوں اور ساس کے تمام عورتوں کے لیے غیر محرم ہے ، دولہا کے ساتھ اس کے دوست بھی اس موقع پر موجود ہوتے ہیں جو دلہن سمیت تمام خواتین کے لیے غیر محرم ہوتے ہیں لیکن سب کے سامنے بے حیائی کی یہ رسم ادا کی جاتی ہے اور ویڈیو والے یہاں بھی یہ تمام مناظر فلمانے کاکام جاری رکھتے ہیں۔ دلہن کی رخصتی کے وقت بھی عجیب عجیب مناظر دکھائی دیتے ہیں حتی کہ بعض خاندانوں میں قرآن پکڑ کر اسے دلہن کے سر پر چھتری کی طرح تان کر قرآن کا اس پر سایہ کیا جاتا ہے گویا قدم قدم پر ہر کام میں اللہ کی نافرمانی اور قرآنی تعلیمات کی مٹی پلید کرنے کے باوجود ہم قرآن سے اس جذباتی تعلق کا اظہار کرکے اللہ تعالیٰ سے کہتے ہیں ، یا اللہ ! دیکھ لے اس سب خود فراموشی اور خدافراموشی کے بعد بھی بطور تبرک تیرے قرآن کریم ہی کو استعمال کررہے ہیں۔ یہ قرآن کریم کے ساتھ کتنا بھونڈا مذاق ہے۔اعاذنا اللہ منہ کیا روزِ محشر اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں سے نہیں پوچھے گا کہ کیا قرآن کریم میں نے صرف اس لیے نازل کیا تھا کہ تم اس کو حریر وریشم کے غلافوں میں لپیٹ کر گل دستۂ طاق نسیاں بنا کر رکھ دینا اور اپنے کاروبار میں ، معاملات زندگی میں اور اپنی معاشرتی تقریبات(شادی بیاہ وغیرہ) میں اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھنا، تاہم اس کو کبھی کبھی تبرک کے طور پر یا مردے بخشوانے اور کھانے پر فاتحہ پڑھنے کے لیے استعمال کر لیاکرنا۔ تاکہ تم اللہ کو ، دنیا کو اور اپنے نفسوں کو یہ دھوکہ دیتے رہو کہ تم قرآن کریم کو ماننے والے ہو ، سچ فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ نے ۔ [يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ ][البقرۃ:9] ترجمہ:’’ یہ اللہ کو اور اہل ایمان کو دھوکہ دیتے ہیں اوران کو یہ پتہ ہی نہیں کہ دراصل وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔‘‘

  • فونٹ سائز:

    ب ب