کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 41

شادی کے اختتام پر مرد حضرات اپنی اپنی خواتین کو لینے کے لیے ہال کے گیٹ پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ماشاء اللہ سب خواتین چونکہ بے پردہ ، ہر طرح کے فیشن سے آراستہ نیم عریاں لباسوںمیں ملبوس اور الٹے سیدھے میک اپ سے اپنے چہروں کو اور پلکوں کو بزعم خویش سجایا بھڑکایا ہوتا ہے تو کیا باہر نکلتے ہوئے یہ عورتیں مردوں کے سامنے سے بلا جھجھک نہیں گزرتی ہیں ؟ اور کیا مرد رنگ ونور کے اس سیلاب سے ، یا حسن وجمال کے اس جلوہ ہائے بے تاب سے یا بکھرتے اور دھنکتے اس قوس قزح سے محظوظ نہیں ہوتے؟ کیا بے حیائی وبے پردگی کے ان مناظر اور مظاہروں کی اسلام میں کوئی گنجائش ہے؟ اور جن مسلمان کہلانے والے مردوں نے اپنی بیگمات،بیٹیوں اور بہنوں کو اس بے حیائی کا مظہر بننے کی اور ’’بے حیا باش وہرچہ خواہی کن‘‘ کا مصداق بننے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ، کیا وہ اس کے ذمے دار نہیں ہیں؟ اگر وہ واقعی مسلمان ہیں تو کیا اس بے غیرتی کا ان کے پاس کوئی جواز ہے؟ کیا انہوں نے کبھی سوچاہے اسلام کی اس طرح مٹی پلید کرنے پر وہ اللہ کوکیا جواب دیں گے، بارگاہ الٰہی میں کس طرح سرخرو ہوں گے؟ کیا اس جواب سے ان کا چھٹکار ہوجائے گا کہ بیوی یا بیٹی نہیں مانتی تھی؟ یا ہمارے معاشرے کا رواج ہی یہ تھا کہ شادی بیاہ کے موقعے پر شریعت کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا تھا ؟ یا اگر ہم اپنی خواتین کو سادہ لباس اور باپردہ لے جاتے تو لوگ ہمیں دقیانوسی خیال کرتے اور یہ پھبتی کستے۔ اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ ، انہیں کچھ نہ کہو کیا اس قسم کے جوابات سے ہماری چھوٹ ہوجائے گی؟ پس چہ باید کرد؟ بہر حال یہ صورت حال نہایت المناک ہے اور اہل دین کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ، یہ کہا جاسکتاہے کہ سب شادیوں میں تو ایسا نہیں ہوتا ، بلاشبہ یہ بات صحیح ہے لیکن بات تو چند افراد یا چند شادیوں کی نہیں بلکہ قوم کی حیثیت مجموعی کی ہے۔ رسم ورواج اور بے حیائی کایہ طوفان اور دینی اقدار وروایات سے یکسر انحراف کا یہ سیلاب اتنا عام اور تیز ہوگیا ہے کہ بڑے بڑے دین دار گھرانے اور خاندان بھی اس کی لپیٹ میں آرہے ہیں اور دولت اور وسائل کی فراوانی کی وجہ سے ان کے اندر بھی دین کی پابندی کے

  • فونٹ سائز:

    ب ب