کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 42

بجائے شان وشوکت کے اظہار کا جذبہ بڑھتا جارہاہے ، اس کی وجہ سے بہت سی مذکورہ خرابیاں دین داروں کی خواتین میں بھی عام ہوتی جارہی ہیں ، مثلاً امیرا نہ شان وشوکت کا اظہار ۔ ان کی خواتین نے ظاہری طور پر تو پردہ کیا ہوا ہوتا ہے لیکن پردے کے پیچھے وہی زرق برق لباس کی نمائش، زیورات کی نمائش، میک اپ اور آرائش کی نمائش ، تفاخر اور برتری کا احساس وغیرہ ۔ یہ چیزیں کمتر حیثیت کی خواتین کے اندر احساس محرومی پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ فضول خرچی کے علاوہ معاشرے کے محروم طبقات کے اندر احساس محرومی کے جذبات پیدا کرنا بھی شرعی طور پر ناپسندیدہ ہے۔ پھر مائیں تو پردے کا کچھ اہتمام کرلیتی ہیں لیکن ان کے ساتھ ان کی نوجوان یا قریب البلوغت بچیاں ہوتی ہیں وہ اکثر بے پردہ بھی ہوتی ہیں اور مذکورہ فیشنی مظاہر سے آراستہ بھی۔ علاوہ ازیں دین دار خاندانوں کے سارے رشتے دار بھی یا تو دین دار نہیں ہوتے یا دینی اقدار وروایات کے زیادہ پابند نہیں ہوتے نیز ان کے قریبی احباب میں بھی بہت سے دین سے بہت دور ہوتے ہیں ان کی خواتین بھی جب بارات اور ولیمے میں شرکت کرتی ہیں تو وہ اسی بے پردگی اور اس کے لوازمات کا مظہر ہوتی ہیں جس کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔ بڑی باراتوں اور ان کی ضیافت کے لیے دین داروں کو بھی وسیع پیمانے پر انتظامات کرنے پڑتے ہیں ، شادی ہال کا اور انواع واقسام کے کھانوں کا ۔جو فضول خرچی ہی کے ذیل میں آتاہے۔ لڑکی کی شادی ہو یا لڑکے کی۔ شادی والے گھر ہی میں کئی کئی دن چراغاں ضروری نہیں ہوتا بلکہ گلی،چوراہوں میں بھی اس کا اہتمام ہوتا ہے اور دین دار ہوں یا غیر دین دار، سب ہی اس کا اہتمام کرتے ہیں حالانکہ خوشی کے موقعے پر چراغاں کرنا مسلمانوں کا شیوہ کبھی نہیں رہا ، یہ آتش پرستوں کی رسم ہے جسے ہندؤوں نے اختیار کیا اور ہندؤوں سے میل جول کی وجہ سے یہ مشرکانہ رسم مسلمانوں میں بھی آگئی۔ یہ چند مفاسد وہ ہیں جو دین دار گھرانوں اور خاندانوں میں بھی عام ہوتے جارہے ہیں اور ان سے

  • فونٹ سائز:

    ب ب