کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 43
بچنے کا داعیہ اور جذبہ کمزور سے کمزور تر ہوتا جارہاہے۔ سخت آپریشن اور دینی غیرت اختیار کرنے کی ضرورت جب بیماری شدید اور ناسور خطر ناک ہوجائے تو بیماری اور ناسور کے خاتمے اور بیمار کی زندگی کو بچانے کے لیے آپریشن ناگزیر ہوجاتاہے اور یہ ناگوار اقدام مریض سے ہمدردی اور محبت کا تقاضا ہوتاہے۔ شادی بیاہ کی رسمیں، جن میں بارات بھی ایک مرحلہ ہے ، خطر ناک ناسور کی صورت اختیار کر گئی ہیں۔ اس مریض قوم اور اس ناسور بھرے معاشرے کے معالج اور ہمدرد صرف اور صرف اہل دین ہیں ، اس لیے معاشرے کے ان پھوڑوں(ناسوروں) کی نشتر زنی انہی کے ذمے داری ہے۔ وہ اپنی ذمے داری کو محسوس کریں لوگوں کی باتوں سے نہ ڈریں، طعن وتشنیع کی پروانہ کریں اور بغیر لومۃ لائم کے خوف کے اس بیمار قوم کے آپریشن کا آغاز کریں اور اس کے لیے ابتدائی قدم یہ ہے کہ اپنے گھر سے اسے شروع کریں۔ بالخصوص جو اصحاب حیثیت دینی خاندان اور افراد ہیں ، وہ ہمت کریں اور فوری طور پر بارات کا سلسلہ ختم کریں بے شک اللہ نے ان کو سب کچھ دیا ہے ، وہ سینکڑوں نہیں ، ہزاروں افراد پر مشتمل باراتوں یا ان کی ضیافت کا اہتمام کرسکتے ہیں ، لیکن اللہ نے یہ دولت فضول خرچی کے لیے نہیں دی ہے ، اس پر تو آپ سے باز پرس کی جاسکتی ہے ، اس دولت کو صحیح مصارف پر خرچ کریں جس کی ہمارے معاشرے میں سخت ضرورت ہے۔ اس کی مزید وضاحت ان شاء اللہ ہم جہیز پر گفتگو کے ضمن میں کریں گے۔ پاکستان میں ڈاکٹر اسرار صاحب مرحوم کی ’’تنظیم اسلامی‘‘ نے اس کا آغاز کیا ہوا ہے اور اس تنظیم سے وابستہ افراد کی ایک معقول تعداد نے باراتوں کا سلسلہ موقوف کیا ہوا ہے۔ یہ ایک مستحسن اقدام ہے جسے اختیار کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ یہ صرف ایک تنظیم یا اس سے وابستہ افراد کا کام نہیں ہے ، یہ ایک دین کا تقاضا ہے جو سارے اہل دین کے مل کر کرنے کا کام ہے ، صرف ایک تنظیم کے چند افراد کا یہ کردار قابل تعریف ہونے کے باوجود معاشرے میں اس کے اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں ، اس کی حیثیت کسی صحرا میں پکاریا نقار خانے میں طوطی کی صدا سے زیادہ نہیں ہے۔