کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 44

ملک میں اہل دین کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو دینی شعور اور اس کی تعلیمات سے بہرہ ور بھی ہے ، دینی اقداروروایات سے وابستگی کا جذبہ بھی اس کے اندر ہے اور بے دینی وبے حیائی کے بڑھتے ہوئے سیلاب سے پریشان اور اس کا رخ موڑنے کی خواہاں بھی ہے لیکن بے عملی ، ایمانی ودینی غیرت وحمیت کے فقدان اور ہوا کے رخ پر ہی بغیر کسی مزاحمت کے ، چلتے جانے کی روش نے اتنی بڑی تعداد کوبے حیثیت بنایا ہوا ہے۔ بنابریں ضرورت عملی اقدامات کی ہے ، ایمانی غیرت وحمیت کے مظاہرے کی ہے ، ایک مضبوط تحریک برپا کرنے کی ہے اور تمام دینی جماعتوں سے وابستہ دین دار افراد کے یہ عہد کرنے کی ہے کہ وہ باراتوں میں شریک نہیں ہوں گے اور خود بھی بارات کے بغیر شادی کریں گے تاکہ مذکورہ خرافات سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں اور قوم کے سامنے دین کا ایک عملی ، سچا نمونہ پیش کریں۔ اٹھو وگرنہ حشر نہ ہوگا پھر کبھی دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا لڑکی والوں کے گھر کھانا جائز ہے یا نہیں ؟ بعض لوگ کہتے یا سمجھتے ہیں کہ باراتیوں کے لیے لڑکی والوں کے گھر کھانا کھانا ناجائز ہے ، اسی طرح لڑکی والوں کے لیے بھی جائز نہیں کہ وہ لڑکے والوں کے ساتھ آنے والے باراتیوں کی مہمان نوازی کریں ، ایسا سمجھنا صحیح نہیں ، یہ وہ غلو ہے جو ناپسندیدہ ہے۔ نکاح کی غرض سے لڑکی والوں کے گھر آئے ہوئے حضرات، کم ہوں یا زیادہ ، مہمان ہیں اور اکرام ضیف یعنی مہمان کی عزت وتکریم اور حسب طاقت وضرورت ان کی خاطر تواضع کا اہتمام نہایت ضروری اور ایمان کا تقاضا ہے، البتہ اپنی طاقت سے بڑھ کر محض دکھلاوے کے لیے فضول خرچی کی حد تک اہتمام ناجائز ہے جیسے مثال کے طور پر بارات کسی دوسرے شہر سے آئی ہے اور پھر اسے واپس بھی اسی شہر میں جانا ہے تو ظاہر بات ہے کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد تقریب نکاح کے بعد خالی پیٹ رہنا اور پھر اسی طرح رخصتی لے کر بغیر کچھ کھائے پیئے دوبارہ عازم سفر ہوجانا ، ناممکن ہے ، ایسا نہ ہوسکتا ہے اور نہ کیا ہی جاسکتاہے۔ اس لیے مہمانوں کی ضیافت ناگزیر ہے اور اس قسم کی صورتوں میں لڑکی والوں کی

  • فونٹ سائز:

    ب ب