کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 45
طرف سے کھانے پینے کاانتظام کرنا اور مہمانوں کا لڑکی والوں کے گھر کھانا دونوں باتیں جائز ہیں ، شرعاً ان میں کوئی قباحت نہیں ہے ، اصل بات جو ہے وہ یہ ہے کہ بھاری بھر کم بارات کا یہ تصور لڑکی والوں کے لیے خواہ مخواہ کا وہ ناروا بوجھ ہے جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے ، یہ معاشرے کا وہ ناجائز رواج ہے جو لڑکی والوں کے لیے ایسا تصور ہے جس نے زمانۂ جاہلیت کی طرح لڑکی کی پیدائش کو غم واندوہ اور ماتم وشیون والی چیز بنادیا ہے جس کو اسلام نے آکر مٹایا تھا اور لڑکی کی پیدائش کو بھی اللہ کی نعمت قرار دیا تھا۔ بارات کے ناروا بوجھ اوردیگر رسم ورواج کے اغلال وسلاسل نے ایک اسلامی معاشرے کو دوبارہ قبل از اسلام کے جاہلی معاشرے میں تبدیل کر دیا ہے ، اور قرآن کریم نے اسلام کی نعمت سے محروم جاہلی معاشرے کی جو یہ کیفیت بیان کی ہے ۔ [ وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُہُمْ بِالْأُنْثٰی ظَلَّ وَجْہُہُ مُسْوَدًّا وَہُوَ کَظِیمٌ ][النحل :58] ترجمہ:’’ جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی پیدائش کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ غم وغصے سے بھرا ہوتا ہے۔‘‘ یہی کیفیت ہمارے پاک وہند کے مسلمان معاشروں کی ہوگئی ہے ، اور اس کی وجہ صرف وہی رسوم ورواج ہیں جو شادیوں کا جزو لا ینفک بن گئے ہیں ، جن میں بارات،جہیز،بری اور زیورات وغیرہ کی وہ غیر ضروری رسمیں ہیں جن کی بیڑیاں خود ہم نے اپنے پیروں میں ڈالی ہوئی ہیں اور جن کو اتار پھینکنے کے لیے کوئی تیار نہیں ، نیز اس میں دونوں خاندان برابر کے ملوث ہیں لڑکے والے بھی اور لڑکی والے بھی اور اس سے بھی بڑا المیہ یہ کہ اس سے نہ کوئی دین دار خاندان مستثنیٰ ہے اور نہ غیر دین دار خاندان ۔ گویا ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود وایاز نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز یا ہم ہوئے ، تم ہوئے کہ میر ہوئے ایک ہی زلف کے سب اسیر ہوئے مسلمان معاشروں سے اس جاہلی کیفیت کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک شادی بیاہوں کے ان تکلفات کی بیڑیوں کو کاٹ کر نہیں پھینک دیا جائے گا جن میں ایک بھاری بھر کم بارات کا کروفر