کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 46

کے ساتھ آنا اور پھر شاہانہ انداز میں اس کی ضیافت کرنا شامل ہے۔ مروّجہ جہیز کی شرعی حیثیت شادی کی رسومات میں ایک رسم جہیز بھی ہے۔ یہ رسم البتہ ایسی ہے کہ اس کی اصل حیثیت میں اختلاف ہے کہ یہ واقعی دیگر غیر ضروری رسومات کی طرح ایک رسم محض ہے یا کسی لحاظ سے اس کا شرعی جواز بھی ہے؟ ہمارے نزدیک اس رسم کے دو پہلو یا دو رخ یا دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت میں اس کا جواز ہے اور دوسری صورتوں میں ناجائز۔اس کو سمجھنے کے لیے ان صورتوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے جن کے پیش نظر جہیز کا اہتمام کیا جاتا ہے، یہ حسبِ ذیل ہیں: 1 شان و شوکت یا امارت کا اظہار 2 نمو دو نمائش، شہرت اور تفاخر کا اظہار 3 اسراف و تبذیر کی حد تک اس کا اہتمام 4 وراثت سے محروم کرنے کا جذبہ 5 محض ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی رسم کے طور پر 6 عدم استطاعت کے باوجود قرض لے کر اس کا اہتمام کرنا 7 تعاون، ہدیہ اور صلہ رحمی کے طور پر اوّل الذکر چھ کی چھ صورتوں میں یہ ایک محض رسم ہے، اس لیے ناجائز ہے۔ اور اس ناجائز صورت میں اکثر و بیشتر مذکورہ ساری ہی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ اس اعتبار سے جہیز کی رسم تمام مذکورہ خرابیوں کا مجموعہ ہے، اسے کس طرح جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس میں شان و شوکت کا اظہار بھی ہوتا ہے، نمودو نمائش کا جذبہ بھی۔ اسراف و تبذیر کی حد تک اس کا اہتمام کیا جاتا ہے، اس لیے ہر چیز دینے کی کوشش کی جاتی ہے، چاہے ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو اور لڑکے والوں کے پاس اتنا غیر ضروری سامان رکھنے کی جگہ بھی ہو یا نہ ہو۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب