کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 47

جس کے پاس استطاعت نہیں ہوتی، وہ قرض لے کر، حتیٰ کہ قرض حسنہ نہ ملے تو سود پر قرض لے کر یہ رسم پوری کرتا ہے۔ بھرپور جہیز دینے میں وراثت سے محروم کرنے کا جذبہ بھی کار فرما ہوتا ہے۔ بالخصوص اصحابِ حیثیت اس نیّت سے لاکھوں روپے جہیز کی نذر کردیتے ہیں اور پھر واقعی ان کے بیٹے اپنے صاحب جائداد باپ کی وفات کی بعد اپنی بہنوں کو وراثت سے ان کا شرعی حق نہیں دیتے اور یہی کہتے اور سمجھتے ہیں کہ باپ نے جہیز کی صورت میں اپنی بیٹیوں کو جو دینا تھا دے دیا، اب یہ ساری جائداد صرف بیٹوں کی ہے۔ اس طرح یہ رسم ہندؤوں کی نقل ہے۔ ہندو مذہب میں وراثت میں لڑکیوں کا حصہ نہیں ہے، اس لیے وہ شادی کے موقعے پر لڑکی کو ’دان‘ دے دیتے ہیں۔یہی دان کا تصور(وراثت سے محرومی کا بدل) مسلمانوں میں جہیزکے نام سے اختیار کر لیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ خالص ہندوانہ رسم ہے۔اگر جہیزمیں مذکو رہ تصورات کار فرما ہوں تو جہیز کی یہ رسم سراسر ناجائز ہے، اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے اس کے خلاف بھی جہاد ضروری ہے، کیونکہ جہیز دینے والے بالعموم ایسے ہی تصوارت کے تحت جہیز دیتے ہیں اور اس رسم کو بھی پورا کرنا نا گزیر سمجھتے ہیں۔ جہیز کی جائز صورت البتہ جہیز کی ایک جائز صورت بھی ہے جس کا ذکر ساتویں شکل میں کیا گیا ہے اور وہ ہے تعاون، صلہ رحمی اور ہدیے(تحفے،عطیے) کے طور پر اپنی لڑکی کو شادی کے موقعے پر کچھ دینا۔ اسلام میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی بڑی فضیلت ہے، اس طرح ایک دوسرے کو ہدیہ، تحفہ دینے کی بھی ترغیب ہے۔ اور اگر تعاون یا ہدیے کا معاملہ اپنے قریبی رشتے داروں کے ساتھ کیا جائے تو اس کوصلہ رحمی کہا جاتا ہے اور اس کی بھی بڑی تاکید ہے اور اس کو دگنے اَجر کا باعث بتلایا گیا ہے۔ اس اعتبار سے اپنی بچی کو،اگر وہ واقعی ضرورت مند ہے یا بطورِتحفہ کچھ دینا، بالکل جائز، بلکہ مستحسن اور پسندیدہ ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ والدین اپنی طاقت کے مطابق اس کی ضروریات پوری کریں۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب