کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 50

’’سیدہ اُمّ سلیم رضی اللہ عنہا نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو تیار کیا اور اُن کو شب باشی کی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا۔‘‘ نجاشی(شاہ حبشہ) کی طرف سے سیدہ اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا کو، ان کا نکاح بذریعہ وکالت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر کے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صحابی جناب شرحبیل بن حسنہ کے ساتھ روانہ کیا گیا تھا۔ اس حدیث میں آتا ہے: "ثم جهزها من عنده وبعث بھا إلىٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم …وجهازها کل من عند النجاشی "  ’’پھر نجاشی نے سیدہ اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا کو اپنے پاس سے تیار کیا اور ان کو رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیج دیا…اور اُن کی ساری تیاری نجاشی کی طرف سے تھی۔‘‘ ان دونوں احادیث میں تجہیز دلہن سازی، یعنی دلہن کو عروسی لباس اور آرائش وزیبائش سے آراستہ کرنے کے معنی میں ہے۔ أثاث البیت( گھریلو سامان) دینے کے معنیٰ میں نہیں ہے جس کو آج کل جہیز کا نام دے دیا گیا ہے، حالانکہ ان احادیث میں جہیز کا لفظ ان معنوں میں ہرگز استعمال نہیں ہوا ہے۔مسند احمد میں مزید جھاز کا لفظ استعمال ہوا ہے، اس کا مطلب یہاں حق مہر کی ادائیگی ہے جو کہ سامانِ آرائش و زیبائش کے علاوہ مکمل طور پر نجاشی ہی کی طرف سے ادا کیا گیا تھا، اس لیے"جهازها کل من عند النجاشی"کہا گیا ہے۔ سيدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کا جہیز رہا تیسرا واقعہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز دینے کا، جس سے جہیز کے جواز پر استد لال کیا جاتا ہے، اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس واقعے پر غور و خوض کرنے اور اس سے متعلقہ روایات کے مختلف طرق کا جائزہ لینے سے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اس کا تعلق بھی أثاث البیت(گھریلو سامانِ ضرورت) سے نہیں ہے بلکہ یہ بھی دراصل دلہن کو پہلی مرتبہ دولہا کے پاس بھیجنے ہی کی تیاری تھی اور اس موقعے پر رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم

  • فونٹ سائز:

    ب ب