کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 51

نےسیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جو چیزیں دی تھیں، ان کا تعلق رات کو سونے کيلیے کام آنے والی چیزوں سے تھا، جیسے چادر، تکیہ، پانی کی مشک۔ جیسے سنن نسائی میں ہے: "جَهَّزَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ وَقِرْبَةٍ وَوِسَادَةٍ حَشْوُهَا إِذْخِر"ٌ  ’’رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے(سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجنے کے لیے) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہاکو تیار کیا، ایک چادر، مشک اور تکیہ کے ساتھ جس میں اذخر گھاس بھری ہوئی تھی۔‘‘ اس روایت میں جز اور جہازکے معنی وہی ہیں جو اس سے پہلےسیدہ صفیہ اورسیدہ اُمّ حبیبہ رضی اﷲ عنہما والی دونوں حدیثوں میں اس لفظ کے گزرے ہیں یعنی دلہن کو شبِ زفاف کے لیے تیار کر کے دولہا کے پاس بھیجنا۔ چنانچہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے متعلقہ روایت، جس میں آتا ہے : "جہز تھا أم سلیم فاھد تھا إلیہ من اللیل" ’’اُن کو سیدہ امّ سلیم نے تیار کر کے (دلہن بنا کر) شب باشی کے لیے رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔‘‘ اس روایت کوامام نسائی باب البناء في السفر میں لائے ہیں۔ بناء کا لفظ شبِ زفاف ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ کی اس تبویب اور اس کے تحت" جہّزتہا "والی روایت درج کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ "جہَّز" کے معنی دلہن سازی کے ہیں، نہ کہ سامانِ جہیز کے۔ ہماری بیان کر دہ وضاحت کی ایک اور دلیل یہ بھی ہے کہ سیدہ فاطمہ سے متعلقہ روایت سنن ابن ماجہ میں اس طرح بیان ہوئی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی و فاطمہ رضی اﷲ عنہما کے پاس تشریف لے گئے اور وہ دونوں ایک چادر (خمیل) میں تھے۔ "قَدْ كَانَ رَسُولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جَہَّزَھمَا بِہَا وَوِسَادَةٍ مَحْشُوَّةٍ إِذْخِرًا وَقِرْبَةٍ " ’’اس چادر کے ساتھ ہی رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو تیار کیا تھا اور ایک تکیہ، اِذخر گھاس کا بھرا ہوا، اور ایک مشک بھی عنایت کی تھی۔‘‘

  • فونٹ سائز:

    ب ب