کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 52

امام ابن ماجہ نے اس روایت کو باب ضجاع آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تحت بیان کیا ہے۔ یعنی ’’آل محمد(محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے)کا بستر۔‘‘ امام ابن ماجہ کی اس تبویب سے بھی واضح ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہاسے متعلقہ روایت میں جہیز کے معنی شب باشی کے سامان یا شب باشی کے لیے تیار کرنا ہیں، نہ کہ مروّجہ سامانِ جہیز کے ۔ احادیث میں ان تین واقعات کے علاوہ (سوائے حدیثِ جہاد من جہز غازيا ... الحديث کے) تجہیز کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے، بالخصوص شادی بیاہ کے مسائل میں اور ان تینوں واقعات میں جس سیاق میں یہ لفظ آیا ہے، اس کا وہی مفہوم ہے جو ہم نے بیان کیا ہے۔ اس سے مروّجہ جہیز مراد لینا یکسر بے جواز اور خلافِ واقعہ ہے۔ بنا بریں پورے یقین اور قطعیت کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ مروّجہ جہیز کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں ہے۔ ستم ظریفی کی انتہا اور یہ تو ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ لڑکی والوں سے اپنی پسند اور خواہش کے مطابق جہیز کا مطالبہ کیا جائے حالانکہ لڑکی کے ماں باپ کا یہ احسان کیا کم ہے کہ وہ بچی کو ناز و نعمت میں پال کر اور اسے تعلیم و تربیت سے آراستہ کر کے اللّٰہ کے حکم کی وجہ سے اپنے دل کے ٹکڑے کو دوسروں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اس احسان مندی کے بجائے ان سے مطالبات کے ذریعے سے احسان فراموشی کا اظہار کیا جاتا ہے جب کہ اللّٰہ کا حکم احسان کے بدلے احسان کرنے کا ہے : ﴿ ہَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ﴾ [سورۃ الرحمن: 60] نہ کہ محسن کے لیے عرصۂ حیات تنگ کرنے کا۔ یا بھاری بھر کم جہیز نہ لانے پر لڑکی کا جینا دو بھر کردینے کا حتیٰ کہ اس کو خود کشی تک کردینے پر مجبور کردینا۔ علاوہ ازیں اللّٰہ تعالیٰ نے مرد کو قوام(عورت کا محافظ، نگران اور بالا دست) ﴿ اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ ﴾[سورۃ النساء:34] بنایا ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ عورت کی مالی ضروریات پوری کرتا ہے، مرد اپنے اس مقام و مرتبہ کو فراموش کر کے عورت سے لینے کا مطالبہ کرتا ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے سببِ فضیلت﴿ وَّ بِمَا اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ﴾ یعنی معاشی و مالی کفالت کی ذمے داری، کے بھی خلاف ہے اور اس کے شیوۂ مردانگی کے بھی منافی۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب