کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 60

وضاحت:یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور اعلامِ نبوت میں سے ہے۔ آپ نے اس میں جن دو قسم کے لوگوں کی پیش گوئی فرمائی تھی، آج قدم قدم پر اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر عورت کی جن فتنہ سامانیوں اور حشر انگیزیوں کا اس میں تذکرہ ہے، وہ محتاجِ بیان نہیں۔ ذیل میں اس کی کچھ توضیح کی جاتی ہے۔ پہلی قسم سے ظالم قسم کے لوگ مراد ہیں، جو اپنے وسائل، طاقت و اقتدار اور جاہ و منصب کی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ کرتے ہیں۔ دنیا میں یہ لوگ طاقت کے نشے میں اندھے اور مغرور ہوتے ہیں اس لیے رحم و کرم کے بجائے ظلم وستم ان کا شعار ہوتا ہے۔ آخرت میں اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ایسے لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اعاذنا اﷲمنہ جہنمیوں کی دوسری قسم فیشن ایبل عورتوں کی ہوگی، ان کی حسبِ ذیل علامات اور خصوصیات ہوں گی: لباس پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی، اس کی تین شکلیں عام ہیں: لباس پہننے کے باوجود ان کے جسم کے بہت سے قابل ستر حصے ننگے ہوں گے، جیسے چہرہ، ہاتھ، یا بازو، گردن اور سینہ (چھاتی) اور گردن کا پچھلا حصہ۔ عورتوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جن کے یہ حصے ننگے ہوتے ہیں حالانکہ یہ سب حصے پردے میں رہنے چاہئیں۔ ایسا تنگ اور چست لباس پہنا جائے کہ جس سے جسم کے خدوخال ہی نہیں، انگ انگ نمایاں ہو۔ یا ایسا باریک لباس پہنیں کہ جس سے سارا جسم جھلکتا نظر آئے اور اُن کی جلد کی رنگت اور اُن کا حسن نمایاں ہو۔ یہ تینوں صورتیں بے پردگی کی ہیں، جن سے مردوں کو دعوتِ نظارہ ملتی ہے۔ مسلمان خواتین کو جو پردے کی اہمیت کو سمجھتی ہیں، نامحرموں کے سامنے مذکورہ تینوں صورتوں سے بچنا چاہیے، اس کے بغیر پردے کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔ 2 مُمِیْلَات کے ایک معنی کیے گئے ہیں، دوسری عورتوں کو بھی مردوں کی طرف راغب کرنے والیاں، یا اپنے کندھوں کو نازو و اَدا سے مٹکا مٹکا کر چلنے والیاں۔ مطلب یہ ہے کہ اپنی چال ڈھال یا ناز و اَدا سے مردوں کو اپنی طرف مائل کرنا اور دوسروں کو بھی بے حیائی کی اس راہ پر لگانا جیسے

  • فونٹ سائز:

    ب ب