کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 61

فلموں اور ڈراموں میں کام کرنے والی حیا باختہ عورتوں کا کردار ہے، اور شادی میں شرکت کرنے والی خواتین کا حال ہے کہ وہ بھی اس موقعے پر انہی کی نقالی کرتے ہوئے لباس، بناؤ سنگھار اور بے پردگی میں انہی کا نمونہ بننے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ مووی فلم کے ذریعے سے پورے خاندان میں اُن کے حسن و جمال، ان کے لباس اور زیورات اور ان کے سولہ سنگھار کا تذکرہ ہو۔ 3 مَائِلَات کے معنی ہیں ناز و ادا سے ایسی چال چلنا جس سے لوگ ان کی طرف مائل اور راغب ہوں۔ 4 بختی اونٹ کی مانند اُن کے سر ہوں گے، کا مطلب، سر پر جوڑا کر کے اُن کو سر کے درمیان اونچا کر کے باندھ لینا۔ یہ فیشن بھی چند سال قبل عورتوں میں عام تھا، اور اب بھی بہت سی عورتیں کرتی ہیں، حتیٰ کہ بعض برقع پوش خواتین کے سروں پر بھی اس طرح کی کلغی نظر آتی ہے۔ اس حدیث کی رو سے بالوں کا یہ اسٹائل یا فیشن بھی ناپسندید ہ ہے۔ لَعَنَ عبداللہ(ابن مسعود رضی اللہ عنہ ) الْوَاشِمَاتِ وَالْمُستوشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللہ فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَہَا أُمُّ يَعْقُوبَ فَجَاءَتْ فَقَالَتْ: إِنَّہُ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ فَقَالَ: وَمَا لِي لاأَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فِي كِتَابِ اللہ فَقَالَتْ: واللہ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتہ مَا تَقُولُ قَالَ: واللہ لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيہِ لَقَدْ وَجَدْتِيہِ أَمَا قَرَأْتِ ﴿وَمَا آتَاكُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاكُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا﴾ ’’سیدناعبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللّٰہ نے لعنت فرمائی، جسم گودنے والی اور گدوانے والی عورتوں پر، بال اُکھڑوانے والیوں پر، حسن کی خاطر، (دانتوں کے اندر) شگاف کرنے والیوں پر، اللّٰہ کی تخلیق کو بدلنے والیوں پر۔ اُمّ یعقوب (نامی عورت) نے کہا: اے (عبد اللّٰہ!) تم یہ کیا کہتے ہو؟ حضرت عبد اللّٰہ نے فرمایا: مجھے کیا ہے کہ میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر اللّٰہ کے رسول نے لعنت کی ہے اور جو اللّٰہ کی کتاب میں لعنتی ہے؟ اس عورت نے کہا: اللّٰہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب