کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 62

کی قسم! میں نے تو وہ سارا قرآن پڑھا ہے جو دو تختیوں کے درمیان ہے، اس میں تو میں نے یہ چیز (مذکورہ قسم کی عورتوں پر لعنت) نہیں پائی۔ عبد اللّٰہ بن مسعود نے فرمایا: اللّٰہ کی قسم! اگر تو اسے (صحیح سمجھ کر) پڑھتی تو یقینا تو اس میں یہ بات پاتی کہ اللّٰہ کے رسول تمہیں جو دیں اسے لے لو (اپنالو) اور جس سے تمہیں روک دیں، اس سے رک جاؤ۔‘‘ تشریح وَاشِمَات، وَاشِمَة کی جمع ہے، وشم کرنے والی عورت۔ مُسْتَوْشِمَات، جمع ہے مُسْتُوْشِمَة کی، وشم کروانے والی عورت۔وشم کے معنی ہیں گودنا، جس کا مطلب ہے کہ جسم کے کسی حصے پر سوئی یا اسی قسم کی کسی چیز سے باریک سا سوراخ کرنا حتی کہ خون بہنا شروع ہو جائے، پھر اس میں سرمہ یا کوئی رنگ بھر دینا۔ عام طور پر چہرے یا ہاتھوں پر ایسا کیا جاتا تھا جیسے ہندو عورتیں پیشانی پر سیندور بھرتی یا بندیا لگاتی ہیں۔ گودنا بھی اسی قسم کا کوئی فیشن تھا جو زمانۂ جاہلیت میں عورتوں میں رائج تھا۔ مُتَنَمِّصَات، مُتَنَمِّصَة کی جمع ہے۔ حافظ ابن حجررحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’اس کے معنی ہیں، بال اُکھڑوانے والی عورت اور اُکھیڑنے والی عورت کو نَامِصَة کہا جاتا ہے (جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) گویا مُتَنَمِّصَات وہ عورتیں ہیں جن کے چہروں یا اَبرؤں سے بال اُکھیڑے جائیں اور جو عورتیں یہ کام کریں گی، وہ نَامِصَة ہیں۔یہ بھی اس زمانے کا ایک فیشن تھا کہ پلکوؤں (ابرؤں) اور چہرے کے اِکّے دُکّے بالوں کو اُکھیڑا جاتا تھا جیسے آج کل بھی یہ جاہلی فیشن عورتوں میں عام ہے ۔ وہ ابروؤں کے بالوں کو اکھیڑ کر مختلف قسم کے چمکیلے رنگ یا سرمہ وغیرہ اس میں بھر لیتی ہیں۔ حدیث کی رو سے یہ سب لعنتی فعل ہیں۔ تاہم کسی عورت کے چہرے پر داڑھی یا مونچھیں اُگ آئیں تو چونکہ یہ معمول کے خلاف بات ہے، اس لیے ان بالوں کا صاف کرنا اس کے لیے جائز بلکہ مستحب ہے کیونکہ ان بالوں سے واقعی عورت کا چہرہ بدنما ہو جاتا ہے۔ اس بدنمائی کو دور کرنا اس کے لیے جائز اور مستحب ہے جب کہ پہلی قسم کا مطلب فیشن کے طور پر اللّٰہ کی پیدائش میں تبدیلی کرنا ہے

  • فونٹ سائز:

    ب ب