کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 7

اس وقت دنیا گوبل ولیج بن چکی ہے ، جو کل ناممکن نظر آتاتھا آج ممکناتی طور پر وجود پاچکاہے ۔ امن وجنگ سب کے طور طریقے بدل چکے ہیں۔ ہر قوم دوسری قوم کو نظریاتی مات دینے پہ تلی ہوئی ہے۔ اس میں کوئی اثر انداز ہے اور کوئی اثر پذیر ۔ علامہ ابن خلدون نے خوب کہا کہ ’’المغلوب مولع بالاقتداء بالغالب،فی شعاره وزيه،ونحلته وسائر احواله وعوائده‘‘ ’’ مغلوب قوم ہمیشہ غالب قوم کے بھیس ، نشانات ، لباس ، مذہب ، عادات واطوار اور طور طریقوں کی دلدادہ ہوتی ہے ‘‘ پھر اس مرعوبیت کی وجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’المغلوب یری ان غلب الغالب لیس بعصبية ولا قوة بأس ، وانما بما انتحله من العوائد والمذاهب ‘‘’’کیونکہ مغلوب یہ سمجھتاہے کہ غالب آنے والا مجھ پر کسی قوت وطاقت وعصبیت کی بنا پر غالب نہیں آیا بلکہ اس کے غالب ہونے کی وجہ وہ عادات وتقالید اور وہ مذھب ہے جس کا وہ پیرو کار ہے ‘‘۔ بعینہ یہی حال اس وقت ان اسلامی ممالک کاہے جہاں مغربی استعمار رہاہے ۔جن میں بالخصوص ذکر بر صغیر پاک وہند کا آتاہے ۔ یہاں سے انگریز اپنے لاؤولشکر لےکر تو روانہ ہوگیا اور ہمیں اس دھوکے میں رکھ گیا کہ تم لوگ آزاد ہو ۔ مگر نظریاتی طور پر یہ اس قوم کو ایسے جھال میں پھانس گیا کہ ہم آزاد ہونے کے بعد بھی غلام ہیں ۔ ہمارے معاشرے کا نہ لباس اپنا ہے ، نہ زبان ، نہ تہوار اپنے ہیں نہ تعلیم وتہذیب سب کچھ ادھار لیے بیٹھے ہیں ۔ حالانکہ ہمارے پاس پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اعلیٰ وارفع تہذیب وثقافت لیکر آئے تھے اور فرمایا تھا کہ ’’قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا، لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ،‘‘

  • فونٹ سائز:

    ب ب