کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 70

مطلب یہ نہیں تھا کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت عقیدۂ علم غیب کا اظہار تھا بلکہ آپ کی رسالت کا اظہار تھا کہ رسول پر وحی کا نزول ہوتا ہے جس میں اللّٰہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو اپنے احکام سے بھی مطلع فرماتا ہے اور آئندہ آنے والے واقعات سے بھی بعض دفعہ باخبر کر دیتا ہے۔ بچی کے شعری مصرعے کا مطلب اسی وحیٔ الٰہی کا اثبات تھا، پھر بھی رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس طرح کہنے سے روک دیا کہ مبادا بعد کے لوگ بدعقیدگی کا شکار ہوجائیں۔ علاوہ ازیں ایک د وسری روایت میں صراحتاً بھی ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وَلَا یَعْلَمُ مَا فِيْ غَدٍ اِلَّا اللہ"’’کل کا علم اللّٰہ کے سوا کسی کو نہیں۔‘‘ بہرحال اس واقعے سے خوشی کے موقعے پر چھوٹی بچیوں کا اشعار پڑھ کر اظہارِ مسرت کرنے کا اثبات ہوتا ہے۔ عہد نبوی کا ایک دوسرا واقعہ ہے، حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہانے ایک لڑکی کو نکاح کے بعد شبِ زفاف کے لیے تیار کرکے اس کے خاوند (ایک انصاری مرد) کے پاس بھیجا۔ رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے پوچھا: تمہارے پاس لھو نہیں ہے؟ مَا کَانَ مَعَکُمْ لَھْوٌ؟ انصار کو لہو پسند ہے، فَإِنَّ الْأَنْصَارَ یُعْجِبُھمْ اللَّھْوُ۔ حافظ ابن حجرکہتے ہیں، ایک دوسری روایت میں مَا کَانَ مَعَکُمْ لَھْوٌ کی جگہ الفاظ ہیں: "فَہَلْ بَعَثْتُمْ مَعَھا جَارِیةً تَضْرِبُ بِالدُّفِّ وَتُغَنِّی" کیا تم نے اس کے ساتھ کوئی بچی (یا لونڈی) بھیجی ہے جو دف بجا کر اور گا کر خوشی کا اظہار کرتی۔ اسی طرح فَإِنَّ الْأنْصَارَ یُعْجِبُہُمُ اللَّھْو کی جگہ دوسری روایت میں ہے: "قَوْمٌ فِیْہِمْ غَزْلٌ"’’انصاریوں میں شعروشاعری کا چرچا ہے۔‘‘ اس دوسری روایت کے الفاظ سے پہلی روایت میں وارد لفظ لَہْو کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ واقعہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب