کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 73

کیا غیرشرعی شادیوں کا بائیکاٹ صحیح نہیں ہے ؟ لوگ کہتے ہیں کہ جن شادیوں میں غیر شرعی حرکتیں ہوتی ہیں ، تو ان کو خاموشی سے برداشت کرلینا چاہیے اور ان رسومات کی وجہ سے بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے رشتے داریاں ٹوٹ جاتی ہیں ، بہن بھائی، عزیز واقارب ناراض ہوجاتے ہیں وغیرہ وغیرہ یہ ٹھیک ہے کہ صلہ رحمی(رشتے داریوں کو قائم رکھنے) کی تاکید ہے اور قطع رحمی(رشتے توڑدینے) پر بڑی سخت وعید ہے ، لیکن اس حکم کا تعلق دنیوی معاملات سے ہے یعنی دنیوی معاملات میں کتنی بھی تلخی ، کشیدگی، ناراضی ہوجائے اسے طول نہیں دینا چاہیے اور نہ ان کی وجہ سے بول چال اور تعلق منقطع کرنے کی اجازت ہے اور اگر جذبات میں زیادہ شدت ہو تو تین دن تک تعلق منقطع کرنے کی رخصت ہے ، اس کے بعد صلح کر لینی اور بات چیت شروع کر دینی چاہیے۔ تین دن سے زیادہ کسی مسلمان بھائی سے تعلق منقطع کیے رکھنے کی اجازت نہیں ہے لیکن جہاں تک دین کا تعلق ہے ، دینی احکام وشعائر اور دینی اقدار وروایات کے احترام اور ان پر عمل کرنے کا معاملہ ہے یہ دنیوی معاملات سے یکسر الگ ہے ، دین ، دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محترم اور ہر تعلق سے زیادہ بالا ہے۔ اس کے احترام اور بالادستی پر ہر چیز کو قربان کیا جاسکتاہے بلکہ کیا جانا ضروری ہے ، یہی ایمانی غیرت اور دینی حمیت کا تقاضا ہے ، جولوگ کہتے ہیں کہ شادی بیاہوں میں ساری شیطانی حرکتوں اور جاہلی رسومات کے باوجود ان کا بائیکاٹ کرنا صحیح نہیں ہے ان میں شریک ہی رہنا چاہیے ، ان کے اندر نہ دین کی حمیت وغیرت ہے اور نہ دین اسلام کا صحیح شعور ، وہ اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بے خبر ہیں اور صحابہ ٔ کرام کی دینی غیرت سے بھی لا علم ۔ ذرا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ دیکھیے! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : انہوں نے ایک تصویروں والا گدّا خریدا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

  • فونٹ سائز:

    ب ب