کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 74

تشریف لائے اور گھر میں اندر داخل ہونے لگے تو دروازے سے ہی اس گدّے پر نظر پڑ گئی تو آپ دروازے ہی پر کھڑے ہوگئے ، اندر داخل نہیں ہوئے ، (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں)  میں نے آپ کے چہرے پر ناگواری کے اثرات دیکھے تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  میں بارگاہ الٰہی میں توبہ کرتی ہوں اور آپ سے بھی معافی کی خواست گارہوں ، مجھ سے کیا غلطی صادر ہوگئی ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ گدّا کیا ہے ؟ میں نے کہا : یہ میں نے آپ کے لیے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھا کریں اور اس کو بطور تکیہ استعمال کرلیا کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ان تصویر والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا ، تم نے جو یہ تصویریں بنائی تھیں ، ان میں جان ڈال کر ان کو زندہ کرو ‘‘ مزید فرمایا : "إِنَّ البَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لاَ تَدْخُلُهُ المَلاَئِكَةُ"  ’’ جس گھر میں تصویریں ہوں ، اس میں (رحمت کے)فرشتے داخل نہیں ہوتے۔‘‘ جب اللہ کے رسول کا اسوۂ حسنہ ، جو مسلمانوں کے لیے واجب الاتباع ہے یہ ہے کہ جہاں آپ کو تصویریں نظر آئیں ، وہاں آپ نے داخل ہونا پسند نہیں فرمایا تو جن اجتماعات میں بینڈ باجے بج رہے ہوں ، مردوزن کا مخلوط اجتماع ہو، عورتوں نے شرم وحیا کے سارے حجابات اتار پھینک دیئے ہوں ، ان کی موویاں بن رہی ہوں ۔ ایسے شیطانی اجتماعات میں شریک ہونا اور شریک رہنا ایک مسلمان مرد اور عورت کے لیے کیسے جائز ہوسکتا ہے ؟ رہا مسئلہ ایسی خرافات کا ارتکاب کرنے والوں کے بائیکاٹ کا تو اس کا اثبات اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس واقعے سے بھی یقیناً ہوجاتا ہے لیکن ہم دو صحابیوں کی ایمانی غیرت کے بھی دو واقعے اس موقع پر بیان کرنا مناسب سمجھتے ہیں تاکہ مزید وضاحت ہوجائے کہ صحابۂ کرام نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے والوں کے ساتھ کتنا سخت رویہ اختیار فرمایا اور رشتوں کو قطعاً کوئی

  • فونٹ سائز:

    ب ب