کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 75

اہمیت نہیں دی۔ سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان فرمائی کہ عورتوں کو مسجدوں میں جاکر نماز پڑھنے سے مت روکو ! تو ان کے بیٹے بلال نے کہا : ہم تو عورتوں کو مسجدوں میں جانے سے روکیں گے تاکہ فساد پیدا نہ ہو ، یہ سن کرسیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سخت غضب ناک ہوئے اور ان کو اتنا برا بھلا کہا کہ کبھی کسی کو اتنا برا بھلا نہ کہا ، اور فرمایا : میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنا رہا ہوں اور تو اس کے مقابلے میں کہتا ہے کہ ہم عورتوں کو مسجدوں میں جانے سے روکیں گے ۔ یہی روایت مسند احمد میں بھی ہے ، جس میں یہ اضافہ بھی ہے ۔ "فَمَا كَلَّمَهُ عَبْدُ اللَّهِ حَتَّى مَاتَ" ’’ سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے اس بیٹے سے ساری عمر کلام نہیں کیا حتی کہ فوت ہوگئے۔‘‘ اسی طرح کا ایک واقعہ سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کا ہے ، ان کا ایک قریبی عزیز (بھتیجا) انگلی سے کنکری پھینک رہا تھا ، عبد اللہ بن مغفل نے اسے اس سے روکا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ، اس کے باوجود وہ باز نہیں آیا تو انہوں نے اس سے فرمایا : میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنا رہا ہوں کہ اس سے آپ نے منع فرمایا ہے اور تو پھر بھی کنکری مار رہا ہے ؟ "لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا"  ’’ میں تجھ سے کبھی کلام نہیں کروں گا۔‘‘ اللہ کی ناراضی یا لوگوں کی ناراضی ، کس سے بچنا ضروری ہے ؟ دو حدیثیں اور ملاحظہ فرمائیں جو نہایت فیصلہ کن ہیں بشرطیکہ دل میں ایمان کی حرارت اور اللہ کا خوف ہو؟ سیدہعائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "مَنْ أَرْضَى اللَّهَ بِسَخَطِ النَّاسِ كَفَاهُ اللَّهُ النَّاسَ، وَمَنْ أَسْخَطَ اللَّهَ بِرِضَى

  • فونٹ سائز:

    ب ب