کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 76

النَّاسِ وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ"  ’’ جس نے اللہ کو راضی کر لیا، چاہے لوگ ناراض ہوگئے ہوں اللہ اس کو لوگوں سے کافی ہوجائے گا اور جس نے لوگوں کو راضی کرنے کے لیے اللہ کو ناراض کر لیا ، اللہ اس کو لوگوں ہی کے حوالے کر دےگا۔‘‘ 2کمال ایمان کے لئے بھی بائیکاٹ کرکے نفرت کا اظہار ضروری ہے سیدناابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ، وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَعْطَى لِلَّهِ، وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ "  ’’ جس نے (کسی سے) اللہ کے لیے محبت رکھی اور اللہ ہی کے لیے نفرت رکھی ، اللہ ہی کے لیے (کسی کو کچھ) دیا اور اللہ ہی کے لیے انکار کیا، اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔‘‘ وضاحت : کسی نیک آدمی سے اس کی نیکی اور تقوی کی وجہ سے ، کسی عالم دین سے اس کی حق گئی اور حق پرستی کی وجہ سے ، کسی صداقت شعار آدمی سے اس کی صداقت اور راست بازی کی وجہ سے محبت رکھنا اللہ کے لیے محبت ہے کیونکہ ان خوبیوں کو اپنانے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور ان کے اختیار کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ بھی محبت رکھتا ہے اور جو اللہ کے حکموں کو پامال کرتا ہے ، اللہ اس سے ناراض ہوتا ہے تو ایسے لوگوں سے نفرت اور ناراضی کا اظہار کرنا ، اللہ کے لیے نفرت کا اظہار ہے جو اللہ کو پسند ہے ، اسی طرح کسی ضرورت مند صاحب ایمان کو اللہ کی رضا کے لیے دینا اللہ کے لیے دینا ہے جس سے اللہ خوش ہوتا ہے اور کسی بدکردار کو دینے سے انکار کر دینا، اللہ کے لیے انکار ہے ، یہ سب کچھ اللہ ہی کے لئے کرنا کمال ایمان ہے اور اس کے برعکس رویہ ایمان کے منافی ہے ۔ مذکورہ احادیث کی روشنی میں بہ آسانی فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ زیر بحث قسم کی شادیوں میں شریک ہونا اور آخر وقت تک شریک رہنا، ایک مسلمان کے شایان شان اور اللہ کے ہاں پسندیدہ ہے یا ان کا بائیکاٹ کرنا شیوۂ مسلمانی اور عند اللہ پسندیدہ ہے ؟

  • فونٹ سائز:

    ب ب