کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 77

ہر شخص آخرت کی جواب دہی کا احساس اور فکر کرتے ہوئے ، اگر آخرت پر اس کا یقین ہے ، جواب سوچ لے اور اس کے مطابق فیصلہ کر لے۔ ہم نیک وبد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں مانو نہ مانو! جان جہاں اختیار ہے آئینہ دیکھ کر بر انہ منایئے ! اصلاح کیجئے ! سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِن"’’ مومن ، مومن کا آئینہ ہے۔‘‘ آئینے کا کام کیا ہے ؟ وہ انسان کے چہرے اور رنگ روپ کو بالکل اس طرح دکھاتا ہے ، جس طرح وہ ہوتا ہے ، اس میں نہ آئینے کا کوئی نقص ہے اور نہ آئینہ دکھلانے والے کی غلطی ، اس لیے بیان کردہ رسومات اور اس میں ہمارےعمل اور رویے کی تفصیلات ، ایک آئینہ ہے جو ایک مومن بھائی نے دوسرے مومن بھائیوں اور بہنوں کو دکھلایا ہے جس سے مقصود اصلاح اور خیر خواہی کے سوا کچھ نہیں ۔ بنابریں آئینہ ان کو دکھلایا تو برامان گئے ۔ والا طرز عمل اختیار کرنے کے بجائے اپنے رویوں کا جائزہ لے کر ان میں اصلاح اور تبدیلی کی کوشش کریں ۔ وبیداللہ التوفیق قرآن کریم میں اللہ کا حکم اب تک جو گفتگو ہوئی ، احادیث رسول اور آثار صحابہ کی روشنی میں تھی اب ذرا قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے احکام بھی ملاحظہ فرما لیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : [ وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ إِنَّ اللَّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا } [النساء: 140]

  • فونٹ سائز:

    ب ب