کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 79

ترجمہ: ’’ اور جب آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات میں عیب جوئی کررہے ہیں تو ان لوگوں سے کنارہ کش ہوجائیں یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں ۔ ‘‘ آیت میں خطاب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن مخاطب امت مسلمہ کا ہر فرد ہے ، اور اسی طرح آیت میں اگرچہ ذکر اہل زیغ واہل ضلال اور ان کی مجالس میں بیٹھنے کی ممانعت کا ہے لیکن آیت کا حکم عام ہے جس میں ہر وہ مجلس شامل ہوگی جس میں اللہ رسول کے احکام کا زبان وبیان کے ذریعے سے یا عمل کے ذریعے سے انکار کیا یا مذاق اڑایا جارہا ہو ، عملی انکار یا مذاق میں شادی بیاہ کی وہ ساری تقریبات (مہندی، منگنی،بارات،ولیمہ وغیرہ) آجاتی ہیں جن میں غیر شرعی حرکات کا دھڑلے سے ارتکاب کیا جاتاہے۔ اعاذنا اللہ منھا خیرامت ہونے کے لیے بھلائی کا حکم دینا ، برائی سے روکنا ضروری ہے دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا : [كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ][ سورۃ آل عمران :110 ] ’’ تم بہترین امت ہو جولوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے ، کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو ، بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ اس آیت میں ’’امت مسلمہ‘‘ کو ’’خیر امت‘‘ (بہترین امت) قرار دیا گیا ہے اور اس کی علت بھی بیان کر دی گئی ہے جو امر بالمعروف ، نہی عن المنکر اور ایمان باللہ ہے ، گویا یہ امت اگر ان امتیازی خصوصیات سے متصف رہے گی تو ’’بہترین امت‘‘ ہے ، بصورت دیگر اس امتیاز سے محروم قرار پاسکتی ہے( جیسے وہ اس وقت دنیا میں ہے) اس کے بعد قرآن کریم میں اہل کتاب کی مذمت سے بھی اسی نکتے کی وضاحت مقصود معلوم ہوتی ہے کہ جو امر بالمعروف ونھی عن المنکر نہیں کرے گا ، وہ بھی اہل کتاب کے مشابہ قرار پائے گا ، اہل کتاب کی صفت بیان کی گئی ہے ۔ [كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ][سورۃ المائدۃ :79 ]

  • فونٹ سائز:

    ب ب