کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 80

ترجمہ:ـ’’ آپس میں ایک دوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے روکتے نہ تھے جو کچھ بھی یہ کرتے تھے یقینا وہ بہت برا تھا۔‘‘ اور زیر تفسیر آیت میں ان کی اکثریت کو فاسق کہا گیا ہے ، قرآن مجید میں اس سے قبل ایک اور آیت میں فرمایا گیا ہے ۔ [ وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ] [سورۃ آل عمران : 10] ترجمہ:’’ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف لائے اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے روکے ، اور یہی لوگ فلاح ونجات پانے والے ہیں ۔‘‘ ’’منکر‘‘ (برائی) سے جس طرح شرک وبدعات ، فسق وفجور اوردیگر نافرمانی والے کام مراد ہیں ، اسی طرح وہ ساری رسومات وخرافات بھی داخل ہیں جو اسلام کی تعلیمات کے یکسر خلاف ہیں اور زیر بحث شادی کی رسومات اسی قبیل(قسم) سے ہیں۔ دوسرے ،آیت میں (مِنکُم) کے ’مِن‘ کو تبعیضیہ قرار دے کر کہا جاتا ہے کہ اگر ایک گروہ(بعض لوگ) امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کا فریضہ ادا کرلے گا تو سب کی طرف سے ادا ہوجائے گا یعنی یہ فریضہ فرض کفایہ ہے ، لیکن آیت میں جو یہ کہا گیا ہے کہ ایسے لوگ ہی کامیاب ہیں ، یہ الفاظ مقتضی ہیں کہ "مِن‘‘کو" تبیین‘‘ کے لئے مانا جائے کیونکہ کامیابی تو ہر مسلمان کا مقصد ہے اور ہونا چاہیے۔ اس اعتبار سے یہ فریضہ’’فرض عین‘‘ ہے یعنی ہر ہر فرد اپنے اپنے دائرے اور اپنی اپنی طاقت کے مطابق امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کا فرض ادا کرے ۔ جیسے ’’بلغوا عنی ولو آیۃ‘‘ کے تحت ہر شخص تبلیغ کا ذمے دارہے۔ واللہ اعلم بالصواب

  • فونٹ سائز:

    ب ب