کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 83

انحراف نہ ہو جب کہ ہمارے ہاں اس کے برعکس ولیمہ بھی اس طرح کیا جاتا ہے کہ وہ بھی شادی بیاہ کی دیگر رسموں کی طرح بہت سی خرابیوں کا مجموعہ بن کر رہ گیا ہے مثلاً : (1) ولیمے میں بارات سے بھی زیادہ ہجوم اکٹھا کیا جاتاہے ۔ (2) حسبِ استطاعت زیادہ سے زیادہ انواع واقسام کے کھانوں کا اہتمام کر لیا جاتاہے۔ (3) اپنی امارت اور شان وشوکت کا اظہار کیا جاتاہے ۔ (4) غرباء کی شرکت کو ناپسندیدہ اور اپنے مقام ومرتبہ کے خلاف سمجھا جاتاہے۔ (5) جس کے پاس وسائل نہ ہوں یا بہت کم ہوں وہ بھی قرض لے کر اپنی استطاعت سے بڑھ کر ولیمہ کرتاہے۔ (6) ولیمے میں بھی بے پردگی کا طوفان آیاہوتا ہے اور اس پر مزید یہ کہ مووی فلم کے ذریعے سے مردوں کے علاوہ تمام خواتین کی حرکات کو بھی محفوظ کیا جاتاہے اور دونوں خاندانوں میں اس کو ذوق وشوق سے دیکھا جاتاہے۔ ولیمے کے بارے میں اسلامی ہدایات حالانکہ اسلامی ہدایات کی رو سے مذکورہ سب باتیں غلط ہیں اس لیے دعوتِ ولیمہ میں بھی اصلاح کی اور اپنے رویوں میں تبدیلی کی شدید ضرورت ہے۔ اسلامی تعلیمات میں ہمیں اس کی بابت جو ہدایات ملتی ہیں ان سے حسب ذیل چیزوں کا اثبات ہوتاہے۔ (1) اسراف اور فضول خرچی سے بچا جائے ، سادہ اور مختصر ولیمہ ہو، سارے خاندان اور دوست احباب کو اکٹھا کرنا ضروری نہیں ہے۔ عہد نبوی میں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اپنے بیٹوں،بیٹیوں کی شادیاں کرتے تھے لیکن دعوتِ ولیمہ وغیرہ میں کسی بڑے اجتماع کا کوئی ثبوت نہیں ملتا حتی کہ صحابہ کرام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خصوصی قربت کا تعلق رکھتے تھے خود اپنی شادی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک کو مدعو نہیں کیا کرتے تھے۔ جیسےسیدنا عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کی شادی ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لباس پر زردی

  • فونٹ سائز:

    ب ب