کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 84

دیکھی تو ان سے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا میں نے کھجور کی ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے پر ایک خاتون سے شادی کر لی ہے ، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ"  ’’ ولیمہ کرو(اگر زیادہ استطاعت نہ ہو تو) ایک بکری ہی کا کردو۔‘‘ خیبر سے واپسی پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرکے اپنے حبالہ عقد میں لے لیا تو راستے ہی میں مدینہ پہنچنے سے قبل ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے خلوت فرمائی اور صبح کو آپ نے ولیمہ کیا جس میں کھجور،پنیر اور گھی کا ملیدہ بنا کر صحابہ کی تواضع کی گئی ، نہ گوشت تھا اور نہ روٹی یہ چونکہ سفر کا واقعہ ہے ، مجاہد صحابہ کی ایک جماعت آپ کے ساتھ تھی جو خیبر میں آباد یہودیوں سے جہاد کرنے کے لیے آپ کے ساتھ گئی تھی تو آپ نے اس میں ان سب کو شریک فرمایا۔ یہ ولیمہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے تعاون سے کیا تھا چونکہ آپ سمیت سب سفر میں تھے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  خیبر فتح کرکے مدینہ واپس آرہے تھے ، راستے میں آپ نے یہ نکاح فرمایا تھا اور شب باشی کے بعد آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے فرمایا : "مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَلْيَجِئْ بِهِ"’’ جس کے پاس جو چیز بھی ہے وہ لے آئے‘‘۔ آپ نے چمڑے کا ایک دستر خوان بچھا دیا کوئی کھجور لے آیا ، کوئی گھی(اور کوئی پنیر) لے آیا اور بعض سَتُّو ، ان سب کو ملا کر ملیدہ بنالیاگیا یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمے کا کھانا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے گراں ولیمہ وہ تھا جو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نےسیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد کیا تھا ، اس میں آپ نے گوشت روٹی کا اہتمام فرمایا تھا۔ 

  • فونٹ سائز:

    ب ب