کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 86

’’ بدترین کھانا ولیمے کا وہ کھانا ہے جس میں مال داروں کو بلایا جائے اور فقراء کو چھوڑ دیا جائے۔‘‘ حافظ ابن حجر نے کہا ہے کہ یہ قول مرفوع کے حکم میں ہے (فتح الباری) اس کی تائید صحیح مسلم کی روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : "شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُمْنَعُهَا مَنْ يَأْتِيهَا، وَيُدْعَى إِلَيْهَا مَنْ يَأْبَاهَا، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ، فَقَدْ عَصَى اللهَ وَرَسُولَهُ"  ’’ بدترین کھانا ولیمے کا وہ کھانا ہے جس میں ان(غرباء) کو تو روک دیا جائے جو اس میں آتے ہیں اور ان کو بلایا جاتا ہے جو اس میں آنے سے انکار کرتے ہیں اور جس نے دعوت قبول نہیں کی ، اس نے اللہ عزوجل اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔‘‘ ایک اور حدیث ہے جس میں نیکوں ہی کو کھلانے کی ترغیب دی گئی ہے فرمایا : "لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا، وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ "  ترجمہ: ’’ دوست اور ساتھی مومن ہی کو بناؤ اور تمہارا کھانا بھی سوائے متقی کے اور کوئی نہ کھائے۔‘‘ (5) اوپر حدیث گزری ہے کہ جس نے دعوت قبول نہیں کی، اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ، اس سے معلوم ہوا کہ دعوت قبول کرنا، چاہے وہ ولیمے کی ہو یا عام دعوت ، ضروری ہے۔ حتی کہ اگر کسی نے نفلی روزہ رکھا ہوا ہے تو اس کو بھی اجازت دی گئی ہے کہ وہ نفلی روزہ توڑ لے اور دعوت میں شریک ہوجائے ، بالخصوص جب دعوت کرنے والا اصرار کرے اگر اصرار نہ کرے تو روزے دار کی مرضی ہے کہ روزہ توڑے یا نہ توڑے ، روزہ نہ توڑے تو دعوت کرنے والے کے حق میں دعائے خیر کر دے ۔  (6) اگر نفلی روزہ توڑ کر دعوت کھائی جائے تو اس نفلی روزے کی قضا ضرور ی نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  ایک

  • فونٹ سائز:

    ب ب