کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 87

دعوت میں تشریف فرما تھے، صحابہ کی ایک جماعت بھی آپ کے ساتھ تھی ، جب کھانا شروع ہوا تو ایک شخص الگ ہوکر ایک طرف بیٹھ گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پوچھنے پر اس نے بتا یا کہ وہ نفلی روزے سے ہے ، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : "أَفْطِرْ وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ إِنْ شَئْتَ " ترجمہ: ’’ تم دعوت کھا لو، اگرچاہو تو بعد میں اس کی جگہ روزہ رکھ لینا۔‘‘ حافظ ابن حجر اور شیخ البانی رحمہما اللہ نے اس کو حسن کہا ہے ۔  معصیت والی دعوت میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دعوت قبول کرنے کی اتنی تاکید کے باوجود شرعی دلائل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جس دعوت میں یا دعوت والے گھر میں اللہ کی نافرمانی کا ارتکاب ہو یا وہاں معصیت والی چیز ہو تو اس دعوت میں اس شخص کا شریک ہونا تو جائز ہے جو اصحابِ دعوت کے ہاں اتنے اثر ورسوخ کا حامل ہو کہ وہ معصیت کاری رکواسکتا ہو ، تو اس کو شریک ہوکر اس کو رکوانے کا فریضہ سرانجام دینا چاہیے اور جو شخص ایسی پوزیشن کاحامل نہ ہو اگر اس کے علم میں پہلے سے یہ بات ہوکہ وہاں فلاں فلاں معصیت کا ارتکاب ضرور ہوگا جیسے آج کل میوزک،ویڈیو،بے پردگی جیسی معصیتیں عام ہوگئی ہیں تو اس کا اس دعوت میں جانے کے بجائے اس کا بائیکاٹ کرنا ضروری ہے اور اگر پہلے اس کے علم میں نہیں تھا ، وہاں جاکر دیکھا کہ وہاں ان شیطانی کاموں کا اہتمام ہے تو اس میں شرکت نہ کرے اور واپس آجائے۔ اگر ان معصیت کاریوں کے باوجود وہ شریک ہوگا تو وہ بھی گناہ گار ہوگا۔ بالخصوص اصحابِ علم وفضل کی اس قسم کے اجتماعات میں شرکت بہت بڑا جرم ہے ان کی شرکت ان معصیت کاریوں کی حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تصویر والا پردہ دیکھ کر بھی دعوت کھائے بغیر واپس آجاتے تھے ،سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’ میں نے ایک روز کھانا تیار کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی، آپ تشریف لائے تو گھر میں تصاویر دیکھ کر واپس چلے گئے ،سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ، آپ

  • فونٹ سائز:

    ب ب