کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 90

ولیمہ کب کیا جائے ؟ سیدہ زینب بنت جحش اورسیدہ صفیہ رضی اللہ عنہما دونوں کے ساتھ نکاح کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلوت فرمائی تو احادیث میں صراحت ہے کہ اس کے بعد دوسرے دن آپ نے ولیمہ کی دعوت کی۔ اس سے اسی بات کا اثبات ہوتا ہے کہ ولیمہ نکاح سے پہلے نہیں بلکہ نکاح کے بعد ہونا چاہیے۔ البتہ شب باشی کے بعد دوسرے روز ہی ضروری نہیں بلکہ دو تین دن کے وقفے کے بعد بھی جائز ہے۔ علاوہ ازیں ولیمے سے قبل خلوت صحیحہ بھی ضروری ہے یا نہیں یا اس کے بغیر بھی ولیمہ جائز ہے ؟ بعض لوگ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ ہم بستری سے پہلے ولیمہ جائز نہیں ہے ، لیکن ایسا سمجھنا صحیح نہیں ہے ، کیونکہ بعض دفعہ پہلی رات کو جب خلوت میں میاں بیوی کی ملاقات ہوتی ہے تو عورت کو حیض کے ایام ہوتے ہیں ، اس لیے ایسی حالت میں بوس وکنار سے زیادہ کچھ نہیں ہوسکتا نیز کسی اور وجہ سے بھی بعض دفعہ ہم بستری نہیں ہوپاتی۔ اس لیے ولیمے کی صحت کے لیے ہم بستری کو لازم خیال کرنا صحیح نہیں ہے ، مخصوص قسم کے حالات میں اس کے بغیر بھی ولیمہ صحیح ہوگا ۔ واللہ اعلم

  • فونٹ سائز:

    ب ب