کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 92

پامال نہیں کررہے ہیں؟ کہا جاتا ہے کہ انگریزی زبان بین الاقوامی اور سائنس وٹیکنالوجی کی زبان ہے ، اس لیے اسے سیکھے بغیر چارہ نہیں ،ٹھیک ہے اس وقت بدقسمتی اور ہم مسلمانوں کی کمزوری کی وجہ سے اس کی یہ اہمیت مسلم اور اس کا سیکھنا جائز بلکہ حکومتی پالیسی کی وجہ سے کسب معاش کے لیے اس کا سیکھنا ضروری ہے لیکن حکومتوں کی مسلط کردہ پالیسی یا دیگر دنیوی ضروریات کے لیے انگریزی زبان کا سیکھنا اور چیز ہے اور اس سے محبت رکھنا اور چیز ہے۔ پہلی بات یقیناً جائز ہے،" الضرورات تبیح المحظورات" (ضرورتیں ناجائز کاموں کو بھی جائز کر دیتی ہیں) فقہی اصول ہے۔اس لیے کوئی عالم انگریزی زبان کے پڑھنے، سیکھنے بلکہ اس میں مہارت حاصل کرنے کو ناجائز نہیں کہتا لیکن دوسری بات یعنی اس سے محبت رکھنا ، اسے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لینا اور اپنی قومی زبان پر اسے ترجیح دینا اس کا قطعاً کوئی جواز نہیں ہے۔یہ قومی غیرت کے بھی خلاف ہے اور شرعی لحاظ سے بھی حرام اور ناجائز ۔ انگریزی میں دعوت نامہ چھپوانا، کسی بھی پاکستانی کی بین الاقوامی ضرورت نہیں ہے ، جو پاکستانی ایسا کرتا ہے ، وہ قومی بے غیرتی کا بھی مظاہرہ کرتا ہے اور اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں سے محبت کا والہانہ اظہار بھی۔ اسے اس کا شعور ہو یا نہ ہو لیکن واقعہ یہ ہے کہ یوں وہ قومی جرم کا بھی ارتکاب کرتا ہے اور حکم الٰہی کی پامالی کا ارتکاب بھی ۔ اعاذنا اللہ منہ یہ مسئلہ شرعی لحاظ سے ۔’’عقیدہ الولاء والبراء ‘‘کے تحت۔ جتنا اہم ہے ، افسوس ہے کہ علماء کے طبقے میں بھی اس کا احساس نہیں ہے ، اس لیے وہ بھی انگریزی کارڈوں پر کسی قسم کی ناگواری کا اظہار نہیں کرتے۔ فإنا لله وإنا إليه راجعون رات کو شادیوں کا انعقاد ایک اور نہایت قبیح رواج، جو دیگر رسومات کی طرح بہت عام ہوگیا ہے ، شادی کی تقریب رات کو کرنا ہے اس میں بھی غالباً یہ شیطانی فلسفہ کار فرما معلوم ہوتا ہے کہ رات کے اندھیرے میں بجلی کے قمقمے اور چراغاں جو بہار دیتا ہے ، وہ دن کی روشنی میں ممکن نہیں ۔ اسی طرح آتش بازی کا سماں بھی رات کی تاریکی ہی میں بندھتا ہے اور آتشیں پٹاخوں کے نہایت خوف ناک دھماکے بھی رات ہی کو اہل

  • فونٹ سائز:

    ب ب