کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 94

ہے ، گویا نماز فجر بھی جاتی۔ اسی طرح اتنی تاخیر سے واپسی پر ان لوگوں کو جو پریشانی ہوتی ہے جن کے پاس اپنی سواری وغیرہ نہیںہوتی۔ نیز رات کی تاریکی میں ڈاکوؤں اور لٹیروں کے ہتھے چڑھ جانے کے امکانات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ بہر حال جس لحاظ سے بھی دیکھا جائے راتوں کی ان تقریبات کا انعقاد غیر صحیح ہے، کم از کم دین دار حضرات کو اس قبیح رواج و رسم سے سختی سے بچنا چاہیے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت آتا ہے کہ آپ کو رات کو عشاء سے قبل سونا اور عشاء کے بعد باتیں کرتے رہنا نا پسند تھا۔  اس حدیث کی روشنی میں بھی اگر دوسری باتوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو راتوں کو شادی کی تقریبات کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ رات سے مراد عشاء کے بعد ہے ، ورنہ عشاء سے پہلے اس کا جواز ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ رات کے وقت شادی کا صحیح طریقہ چراغاں اور آتش بازی وغیرہ رسومات سے بچتے ہوئے ، اگر نکاح ، خاطر تواضع اور رخصتی کی ساری کارروائی، وقت کی پابندی کرتے ہوئے، مغرب کے فوراً بعد سے لے کر عشاء کے وقت تک کر لی جائے تو پھر چوں کہ مذکورہ قباحتیں پیدا نہیں ہوں گی اس لیے رات کے پہلے پہر میں ان تقریبات کے جواز میں شک کی گنجائش نہیں۔ لیکن ایسا اسی وقت ہوسکتا ہے جب دونوں خاندانوں کے دلوں میں ایک تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کی اہمیت ہو ، اتباع سنت کا سچا جذبہ ہو۔ دوسرے وقت کی قدروقیمت کا احساس اور مقررہ وقت کے اندر ساری کارروائی کرنے کا عزم راسخ ہو۔ مہمانوں کے وقت پر نہ آنے کی پروانہ کی جائے بلکہ جو لوگ وقت پر آجائیں چاہے وہ بالکل تھوڑے ہی ہوں ، ان کی موجودگی میں نکاح یا ولیمے کا آغاز کر دیا جائے اور تاخیر سے آنے والوں کی مہمان نوازی سے معذرت کر لی جائے۔ جب تک لومۃ لائم کے خوف کے بغیر اس جرأت وہمت کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا ، وقت کے ضیاع کو روکنا بھی ممکن نہیں ہے اور اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی بھی نہایت مشکل ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب