کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 96

مذکورہ آرڈیننس کی دفعات کا خلاصہ دفعہ : ۴ (۱) کسی شخص کو اپنی یا کسی اور کی شادی کی تقریب میں، جوہوٹلوں،ریسٹورنٹوں،شادی ہال یا کمیونٹی سنٹر میں منعقد ہورہی ہو،شرکت کرنے والوں کے لیے صرف مشروبات کے علاوہ کھانا پیش کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ دفعہ : ۵ وہ شخص جو ہوٹل، ریسٹورنٹ،شادی ہال، کمیونٹی سنٹر کا مالک یا مینیجرہو، انہیں شادی کی تقریب میں شرکت کرنے والوں کے لیے کھانا، طعام وغیرہ پیش کرنے کی اجازت نہ ہوگی مہمانوں کی تواضع مشروبات سے کی جائے گی۔ دفعہ : ۶ جوشخص ان احکام کی خلاف ورزی کرے گا وہ قابل سزا مجرم ہوگا انہیں ایک ماہ کی قید محض یا جرمانے کی سزا دی جائے گی جوکہ ایک لاکھ سے کم اور پانچ لاکھ سے زیادہ نہ ہوگا اس آرڈیننس کے تحت یہ جرائم قابل دست اندازی پولیس نہیں ہوں گے۔ ضروری وضاحت اس آرڈیننس کو سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیاگیا تھا۔ شرعی عدالت نے اپنے طریقۂ کار کے مطابق علمائے کرام اور اپنے فقہی مشیران سے اس کی بابت رائے طلب کی، لیکن قبل اس کے کہ شرعی عدالت علماء کی آراء کی روشنی میں اس پر بحث کرتی اور شرعی فیصلہ کرتی سپریم کورٹ نے اس کے خلاف فیصلہ صادر کر دیا اور یہ کالعدم ہوگیا۔ راقم نے اس آرڈی ننس کی حمایت میں شرعی عدالت میں پیش کرنے کے لیے ایک بیان مرتب کیا تھا،عدالتی فیصلے کی وجہ سے اسے پیش کرنے کا موقع ہی نہیں آیا۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب