کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 97

نکاح کی الگ مستقل تقریب ،اگر ناگزیر ہوتو .... ایک اور سلسلہ عام ہوتا جارہا ہے کہ کسی وجہ سے اگر لڑکے یا لڑکی والے کچھ عرصہ کے لیے رخصتی لینا یا کرناپسند نہیں کرتے تو رشتہ مضبوط کرنے یا باہر لے جانے کے لیے کاغذات کی تیاری کی غرض سے ،بھاری بھر کم بارات سے پہلے، ایک مختصر تقریب میں صرف نکاح کی کارروائی پوری کرلی جاتی ہے۔ مذکورہ وجوہ سے اگر واقعی ایسا کرنا ضروری ہوتو ایسا کیا جاسکتا ہے لیکن شرعاً اس کا جواز اسی صورت میں ہوگا جب اس میں فضول خرچی کا پہلو نہ ہو اور ایسا کب ہوگا؟ تب جب کہ اس تقریب میں گھر کے صرف چند ضروری افراد ہی لڑکی والوں کے گھر آئیں اور ایک کمرے میں بیٹھ کر نکاح کر لیا جائے اور بلاتکلف ماحضر تناول کرکے چلے جائیں ، اس میں نہ ہجوم ہوکہ اس کے لیے لڑکے والے بھی ٹرانسپورٹ کا خصوصی انتظام کریں اور لڑکی والے بھی۔بارات سے پہلے .... باراتیوں(لڑکے والوں) کے لیے پر تکلف کھانوں اور ہالوں کا انتظام کریں۔ یہ ایسا سادہ طریقہ ہے کہ دونوں خاندانوں پر کوئی خاص مالی بوجھ نہیں پڑتا اور دونوں فضول خرچی سے محفوظ رہتے ہیں جوکہ شرعاً پسندیدہ امر ہے۔ لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس کے لیے بھی باقاعدہ ہال اور پر تکلف کھانوں کا اہتمام کیا جاتاہے اور دونوں خاندانوں کے افراد کافی معقول تعداد میں شریک ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ایک سادہ سی گھریلو تقریب بھی ایک پر ہجوم تقریب بن جاتی ہے۔ یہ طریقہ چونکہ غیر ضروری ہے اس لیے یہ شرعاً فضول خرچی کے دائرے میں آئے گا جن کے مرتکبین کو اللہ تعالیٰ نے شیاطین کا بھائی کہا ہے۔ بنابریں صرف نکاح کے لیے بارات سے پہلے نکاح کی الگ تقریب سے اجتناب کیا جائے اور اگر ناگزیر ہوتو گھر میں اس کا اہتمام ہو اور صرف گھر کے چند ضروری افراد کی موجودگی ہی کو کافی سمجھائے۔ سلامی یانیوتہ بارات کی روانگی سے قبل دولہا میاں تیار ہوکر گھر میں بیٹھ جاتے ہیں اور بارات میں شریک ہونے والے اہل خاندان دولہا کو سلامی دیتے ہیں ، اسے نیوتہ بھی کہاجاتاہے۔ یہ نقد رقم ہوتی ہے جو سلامی کے نام پردی جاتی ہے اور اسے باقاعدہ لکھ کررکھا جاتا ہے۔ زیادہ ہجوم ہوتا ہے تو ایک شخص اس رقم کو دینے والے کے نام کے ساتھ لکھتا جاتاہے۔ جو دوست احباب اس موقع پر نہیں ہوتے تو وہ ولیمے کی دعوت

  • فونٹ سائز:

    ب ب