کتاب: البیان اسلامی ثقافت نمبر - صفحہ 98

میں دولہا یا اس کے والد کو دے دیتے ہیں۔ یہ رواج بھی اتنا عام ہے کہ شریک ہونے والے خاندان کا ہر بڑا فرد اور احباب میں سے ہر شخص اس سلامی یا نیوتے کے بغیر شرکت میں سبکی محسوس کرتا ہے اور اسے خواہی نخواہی کچھ نہ کچھ ضرور دینا ہی پڑتا ہے ، علاوہ ازیں نہ دینے پر گو زبان سے اظہار نہ ہو دل میں خفگی ضرور محسوس کی جاتی ہے۔ یہ ہدیہ،تحفہ یا تعاون نہیں ہوتا بلکہ اس کو قرض سمجھا جاتا ہے اور قرض بھی سودی۔ یعنی جتنی رقم دی جاتی ہے، دینے والے کے ہاں جب شادی کی تقریب ہوتی ہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اب لینے والا میری دی ہوئی رقم مع اضافہ لوٹائے اور رواج بھی یہی ہے کہ واپسی کے وقت اضافہ کرکے ہی دی جاتی ہے۔ اس رسم کا جب کبھی آغاز ہوا ہوگا ، اس وقت یقینا جذبہ تعاون کے تحت ہی ہوا ہوگا، لیکن اب یہ تعاون کے بجائے متعدد قباحتوں کا باعث ہے۔مثلاً تعاون کی ضرورت ہے یا نہیں ، اب صرف رسم کے طور پر اس کو کیا جاتاہے ، یہی وجہ ہے کہ لکھ پتی اور کروڑ پتی خاندانوں میں بھی اس کا اہتمام ہوتا ہے حالانکہ ان کو اس تعاون کی قطعاً ضرورت نہیں ہوتی۔ واپسی پر زیادہ دینا اور اس کا واپس کرنا ضروری ہے ، اس طرح یہ ایک قرض کی صورت بن جاتی ہے اور قرض پر زیادہ لینا ہی سودہے۔ اس اعتبار سے یہ باہم تبادلہ سودی طریقہ ہے۔ دعوت قبول کرنے کا حکم ہے لیکن شادی(بارات یا ولیمہ) کی دعوت ایک خالص دعوت نہیں رہتی کیونکہ کچھ نہ کچھ دینا ضروری سمجھا جاتا ہے جب کہ دعوت بے لوث ہوتی ہے اور اسے ہی قبول کرنے کی تاکید ہے ، اس اعتبار سے یہ بارات یا ولیمے کی دعوت بھی، اسلامی دعوت نہیں ہے بلکہ یہ خود غرضی کا یا باری اتارنے یا وصول کرنے کا ایک سلسلہ ہے جو شادی بیاہ کی زیر بحث رسومات ہی کا ایک حصہ ہے۔ بنابریں ضروری ہے کہ دین کا صحیح شعور رکھنے والے سلامی یانیوتے کی اس رسم کا بھی خاتمہ کریں،اس کا بھی کوئی شرعی جواز نہیں ہے البتہ کوئی رشتہ دار غریب ہے اور اسے تعاون کی ضرورت ہے تو اس کے ساتھ ضرور تعاون کیا جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ (1) آپ اگر صاحب حیثیت ہیں تو اس کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے تعاون کردیں نیز سادگی کے ساتھ شادی کرنے کی تلقین کریں۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب